وفاقی آئینی عدالت نے مختلف ملکوں کی شہریت رکھنے والے والدین کے درمیان بچوں کی تحویل کے تنازعات سے نمٹنے کے لیے رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ ڈان کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس روزی خان بریچ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سندھ ہائیکورٹ کا 16 مارچ کا حکم کالعدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مقدمات میں بین الاقوامی بچوں کے اغوا سے متعلق قانونی پروٹوکول اور پہلے سے موجود غیر ملکی عدالتی احکامات کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے۔

جسٹس علی باقر نجفی کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ اگر کسی بچے کو اس ملک سے ہٹایا یا دوسرے ملک میں روکا گیا ہو جہاں وہ معمول کے مطابق رہتا تھا، اور یہ اقدام وہاں کے قانون، عدالتی حکم یا قانونی معاہدے کے تحت تحویل کے حقوق کی خلاف ورزی ہو، تو اسے غلط منتقلی یا روکنا تصور کیا جا سکتا ہے۔ اصول کے مطابق بچے کو معمول کی رہائش والے ملک واپس کرنے کا سوال پہلے طے کیا جانا چاہیے، سوائے ان حالات کے جہاں متعلقہ قانونی استثنا لاگو ہو۔

عدالت نے واضح کیا کہ مقامی عدالت کسی بچے کی حتمی تحویل کا فیصلہ کرنے سے پہلے یہ دیکھے کہ 1980 کے بین الاقوامی چائلڈ ابڈکشن کنونشن کے تحت واپسی لازم ہے یا نہیں۔ ساتھ ہی غیر ملکی عدالت کے دائرۂ اختیار، کارروائی کی منصفانہ نوعیت، پاکستانی نجی بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اس امکان کو بھی دیکھا جائے کہ کوئی سابق حکم دھوکے یا قدرتی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی سے حاصل تو نہیں کیا گیا۔

زیر سماعت تنازع محمد فراز شیخ اور جویریہ شاہانی کے بیٹے کی تحویل سے متعلق تھا۔ رپورٹ کے مطابق والد امریکی شہری اور نارتھ کیرولائنا کے رہائشی ہیں، جبکہ بچے کی تحویل پر پاکستان اور امریکا میں عدالتی کارروائیاں ہوئیں۔ امریکی عدالت نے عارضی تحویل کے احکامات جاری کیے تھے اور بعد میں بچہ فروری 2024 میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے امریکا واپس گیا۔

وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ کسی ایک والدین کو عمومی طور پر برتر حق دینے کے بجائے سرحد پار تحویل کے مقدمات کے لیے طریقۂ کار واضح کرتا ہے۔ ہر آئندہ کیس میں بچے کے معمول کے رہائشی ملک، سابق عدالتی احکامات، قانونی استثناؤں اور بچے کے مفاد سمیت متعلقہ حقائق الگ جانچے جائیں گے۔ فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ پاکستانی عدالتوں کے لیے بین الاقوامی خاندانی تنازعات میں دائرۂ اختیار اور غیر ملکی فیصلوں کے وزن کے بارے میں ایک منظم فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔