اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے مختلف ملکوں یا قومیتوں سے تعلق رکھنے والے والدین کے درمیان بچوں کی تحویل کے تنازعات سے نمٹنے کے لیے عدالتی اور انتظامی رہنما اصول وضع کیے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے مقدمات میں بین الاقوامی چائلڈ ابڈکشن سے متعلق قابل اطلاق اصولوں کا احترام کیا جائے اور پہلے سے موجود غیرملکی عدالتی احکامات کو مناسب قانونی وزن دیا جائے۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس روزی خان بریچ شامل تھے، نے سندھ ہائیکورٹ کے 16 مارچ کے ایک حکم کو کالعدم کرتے ہوئے یہ رہنمائی جاری کی۔ سندھ ہائیکورٹ نے اس مقدمے میں والد کو اپنے کم سن بیٹے کی تحویل ماں کو واپس دینے کی ہدایت کی تھی اور عدم تعمیل کی صورت میں مزید اقدامات کا حکم بھی دیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ مختلف قومیتوں کے فریقوں کے درمیان تحویل کے مقدمے میں مقامی عدالت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ پہلے حکم جاری کرنے والی غیرملکی عدالت کو قانونی دائرۂ اختیار حاصل تھا یا نہیں، فیصلہ میرٹ پر اور پاکستان میں تسلیم شدہ نجی بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق کارروائی میں دیا گیا تھا یا نہیں، اور آیا فیصلہ قدرتی انصاف کی خلاف ورزی یا دھوکہ دہی کے ذریعے حاصل تو نہیں کیا گیا۔

مقدمہ محمد فراز شیخ اور جویریہ شاہانی کے بیٹے کی تحویل سے متعلق ہے۔ دستیاب عدالتی رپورٹ کے مطابق والد امریکی شہری اور شمالی کیرولائنا کے رہائشی ہیں، جبکہ بچے کے پاس امریکی پاسپورٹ ہے۔ والدین کی علیحدگی کے بعد پاکستان اور امریکا میں تحویل سے متعلق قانونی کارروائیاں ہوئیں۔ امریکی عدالت نے عارضی تحویل کے احکامات جاری کیے تھے اور بعد میں بچہ امریکا واپس منتقل ہوا۔

عدالت کا تازہ فیصلہ کسی ایک والد یا والدہ کے عمومی حق کو دوسرے پر فوقیت دینے کے بجائے دائرۂ اختیار، بچے کی معمول کی رہائش، سابق عدالتی فیصلوں اور منصفانہ قانونی عمل جیسے عناصر کی جانچ کے لیے فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ ہر تحویل کا مقدمہ اپنے حقائق، بچے کے مفاد اور قابل اطلاق قانون کے مطابق طے ہونا ضروری ہے۔

اس فیصلے کی اہمیت ایسے مقدمات میں بڑھ جاتی ہے جہاں ایک والدین بچے کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جائے اور دونوں ریاستوں کی عدالتوں میں متوازی کارروائیاں شروع ہو جائیں۔ وفاقی آئینی عدالت کی ہدایات کا مقصد مقامی عدالتوں کو یہ طے کرنے میں مدد دینا ہے کہ غیرملکی حکم کو کس حد تک تسلیم کیا جائے اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں اور قدرتی انصاف کے تقاضوں میں توازن کیسے قائم رکھا جائے۔