وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جاری کردہ ڈگری مساوی سند کسی امیدوار کو یونیورسٹی میں داخلے کا خودکار یا لازمی حق نہیں دیتی۔ عدالت کے مطابق خودمختار تعلیمی ادارے اپنے مخصوص پروگراموں کے لیے الگ تعلیمی شرائط مقرر اور یکساں طور پر نافذ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق، جسٹس محمد کریم خان آغا اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے امیدوار الطاف حسین کی درخواست خارج کردی۔ درخواست گزار نے لاہور ہائی کورٹ کے 2019 کے انٹرا کورٹ اپیل فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں دائرۂ اختیار کی کوئی غلطی یا غیر قانونی پہلو نہ پایا اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔
مقدمہ پنجاب یونیورسٹی کے ایم فل پروگرام میں داخلے سے متعلق تھا۔ درخواست گزار نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی ایم بی اے ڈگری کی بنیاد پر درخواست دی تھی اور جی اے ٹی جنرل کے ساتھ یونیورسٹی کا داخلہ امتحان بھی پاس کیا تھا۔ اس کے باوجود پنجاب یونیورسٹی نے داخلہ اس بنیاد پر نہیں دیا کہ متعلقہ ایم بی اے ڈگری 20 کورسز اور مجموعی طور پر 60 کریڈٹ آورز پر مشتمل تھی، جبکہ یونیورسٹی کے معیار کے تحت 25 کورسز اور 75 کریڈٹ آورز درکار تھے۔
درخواست گزار کے وکیل شیراز ذکا نے مؤقف اختیار کیا کہ HEC قانونی طور پر مجاز وفاقی ادارہ ہے اور اس کی جاری کردہ مساوی سند کے بعد صوبائی یونیورسٹی ڈگری کی قدر پر دوبارہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 143 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی قانونی تعین کو صوبائی ادارے کی شرط پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے۔
پنجاب یونیورسٹی کے وکیل سعد رسول نے جواب میں کہا کہ ڈگری کی عمومی مساوات اور کسی مخصوص پروگرام میں داخلے کی اہلیت دو الگ معاملات ہیں۔ ان کے مطابق HEC سند یہ بتاتی ہے کہ ایک ڈگری تعلیمی سطح پر کس کے مساوی ہے، جبکہ یونیورسٹی اپنے پوسٹ گریجویٹ پروگرام کے لیے کم از کم کریڈٹ آورز یا دیگر پیشگی شرائط نافذ کرسکتی ہے۔
جسٹس سید ارشد حسین شاہ کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ HEC کی مساوی اسناد میں خود واضح کیا جاتا ہے کہ داخلہ دینا متعلقہ ادارے کا اختیار ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ عمومی تعلیمی موازنہ یونیورسٹی کے ایسے یکساں اور غیر امتیازی معیار کو ختم نہیں کرتا جو خصوصی اعلیٰ تعلیم کے پروگرام کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔
عدالت نے وفاقی اور صوبائی قوانین کے درمیان اس معاملے میں کوئی حقیقی ٹکراؤ بھی تسلیم نہیں کیا۔ فیصلے کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کا اپنے ایم فل پروگرام کے لیے کریڈٹ آورز کی شرط نافذ کرنا HEC کی مساوی سند کو کالعدم قرار دینا نہیں، بلکہ الگ داخلہ معیار کا استعمال ہے۔
اس فیصلے کا عملی مفہوم یہ ہے کہ HEC سے مساوی سند حاصل کرنے والے امیدوار کو بھی ہر یونیورسٹی اور پروگرام کی مخصوص شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ تاہم اداروں پر لازم رہے گا کہ وہ اپنی اہلیت شرائط واضح، قانونی اور تمام امیدواروں پر یکساں طور پر نافذ کریں۔ عدالت نے اس مقدمے میں پنجاب یونیورسٹی کی شرط کو غیر امتیازی پایا اور درخواست خارج کردی۔




