اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 کی آئینی حیثیت سے متعلق نظرثانی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار 2021 کے متعلقہ عدالتی فیصلے میں ایسی واضح غلطی یا بنیادی نقص ثابت نہیں کر سکے جو نظرثانی کے محدود دائرہ اختیار میں مداخلت کا جواز فراہم کرے۔

تنازع انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 کے اس طریقہ قانون سازی سے متعلق تھا جس کے تحت اسے فنانس ایکٹ کے ذریعے منظور کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے ایک سابق فیصلے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ مذکورہ لیوی آئین کے آرٹیکل 73 کے تحت منی بل کی تعریف میں نہیں آتی اور اس کے لیے دونوں ایوانوں پر مشتمل عام قانون سازی کا طریقہ اختیار کیا جانا ضروری تھا۔

وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا کہ اس آئینی سوال کا پہلے ہی جائزہ لیا جا چکا تھا اور 28 دسمبر 2021 کے حکم میں اپیل کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ نظرثانی کی درخواستوں میں اس سابقہ نتیجے کو دوبارہ کھولنے کے لیے کافی قانونی بنیاد پیش نہیں کی گئی۔

فیصلے میں ایک بعد کے عدالتی حکم کے طریقہ کار پر بھی سنجیدہ تحفظات ظاہر کیے گئے۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے لکھا کہ 21 جون 2022 کو ایک تین رکنی بینچ کی جانب سے تقریباً انہی آئینی سوالات پر اپیل کی اجازت دینے اور پہلے نتیجے پر دوبارہ غور کی گنجائش پیدا کرنے کا انداز عدالتی نظم، نظیر اور ادارہ جاتی طریقہ کار کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ متعلقہ حکم جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے زور دیا کہ ہم مرتبہ یا بعد کے بینچ پہلے سے موجود عدالتی فیصلوں کا مناسب احترام کریں اور کسی سابقہ نتیجے سے انحراف صرف مقررہ قانونی اور ادارہ جاتی طریقے کے تحت کیا جائے۔ فیصلے کے مطابق کسی الگ درخواست میں اپیل کی اجازت دینا بذاتِ خود پہلے فیصلے کو نظرثانی، تبدیل یا بے اثر نہیں کر سکتا۔

عدالت نے یہ اصول بھی دہرایا کہ مقدمات کے حتمی فیصلوں میں یقین اور عدالتی نظام کی ترتیب برقرار رکھنے کے لیے بند ہو چکے تنازعات کو صرف اسی صورت دوبارہ کھولا جانا چاہیے جب نظرثانی کے مقررہ سخت معیار کے مطابق واضح غلطی سامنے آئے۔ موجودہ فیصلے میں درخواستیں مسترد ہونے کے بعد 2021 میں انکم سپورٹ لیوی کے قانون سازی کے طریقہ کار سے متعلق طے شدہ نتیجہ برقرار ہے۔

یہ فیصلہ کسی نئی لیوی کے نفاذ کا اعلان نہیں بلکہ 2013 کے قانون اور اس کی منظوری کے آئینی طریقہ کار سے متعلق عدالتی تنازع کی نظرثانی کا نتیجہ ہے۔ اس کے عملی قانونی اثرات متعلقہ مقدمات اور سابقہ فیصلوں کے دائرے میں سمجھے جائیں گے۔