اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے انتخابی پروگرام تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن کے مختصر تحریری حکم کے مطابق ان اضلاع کو شامل کیا جائے گا جہاں حلقہ بندیوں کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور جو وفاقی حکومت کے قائم کردہ ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے مخصوص اضلاع میں شامل نہیں ہیں۔

الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی، کوہاٹ، ایبٹ آباد، ہری پور، بٹگرام، تورغر، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کولائی پالس، بونیر، لوئر چترال، لوئر دیر اور اپر دیر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تیاری کی جائے گی۔ کمیشن سیکریٹریٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان اضلاع کا انتخابی پروگرام منظوری کے لیے کمیشن کے سامنے پیش کرے۔

حلقہ بندیاں مکمل ہونے کے باوجود بنوں، مہمند، اورکزئی، لکی مروت، ٹانک اور شمالی وزیرستان کو فی الحال اس مرحلے سے خارج رکھا گیا ہے کیونکہ یہ اضلاع وفاقی حکومت کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کے حکم کے تحت قائم ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے دائرے میں شامل ہیں۔ یہ 48 رکنی مشاورتی ادارہ مخصوص اضلاع میں حکمرانی، سکیورٹی اور ترقیاتی امور کی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے رواں سال 16 جنوری کو خیبرپختونخوا کے 24 اضلاع میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کا عمل 19 جنوری سے شروع کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ بعد میں 23 اضلاع میں یہ عمل مکمل ہوا، جبکہ سوات میں صوبائی حکومت کی جانب سے ضلع کو سوات اور بر سوات میں تقسیم کرنے کے فیصلے کے بعد حلقہ بندی روک دی گئی تھی۔

خیبرپختونخوا کے متعلقہ بلدیاتی اداروں کی چار سالہ مدت رواں سال مارچ اور جون میں ختم ہوئی تھی۔ الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 219(4) کے تحت متعلقہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانا انتخابی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ موجودہ حکم اسی قانونی ذمہ داری کے تناظر میں انتخابی پروگرام آگے بڑھانے کی ہدایت دیتا ہے۔

ابھی پولنگ کی حتمی تاریخیں جاری نہیں ہوئیں۔ اگلا مرحلہ الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ کی جانب سے تفصیلی انتخابی پروگرام تیار کرکے کمیشن کی منظوری کے لیے پیش کرنا ہے۔ اس لیے موجودہ حکم کو انتخابات کے انعقاد کی باقاعدہ سمت میں اہم قدم سمجھا جا سکتا ہے، لیکن پولنگ شیڈول اور امیدواروں سے متعلق مراحل حتمی پروگرام جاری ہونے کے بعد واضح ہوں گے۔