ساہیوال: محکمہ آبپاشی نے بتایا ہے کہ ضلع ساہیوال میں گزشتہ پانچ ماہ کے دوران نہری پانی کی مبینہ چوری کے الزام میں 294 کسانوں اور دیگر افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مقامی لوئر باری دوآب کینال ڈویژن کے حکام کے مطابق کارروائیاں صوبائی حکومت کی ان ہدایات کے تحت کی جارہی ہیں جن میں آبپاشی کے پانی کی غیر قانونی منتقلی اور سرکاری آبی ڈھانچے میں مداخلت کے خلاف سخت اقدامات کا کہا گیا ہے۔
محکمے کے ایگزیکٹو انجینئر طلحہ کے مطابق درج مقدمات میں کسانوں کے علاوہ بعض دیگر افراد اور اداروں سے وابستہ نام بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں قادرآباد میں سیف پاور پلانٹ کے بعض حکام اور سیاسی جماعتوں یا کسان تنظیموں کے عہدیداروں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یہ تمام معاملات الزامات اور درج مقدمات کی سطح پر ہیں؛ کسی فرد یا ادارے کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
محکمہ آبپاشی کے ریکارڈ میں مختلف دیہات میں پانی کی مبینہ چوری کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر چک 63/5-ایل میں ایک کسان پر الزام ہے کہ اس نے نہری پانی کے سرکاری آؤٹ لیٹ، جسے مقامی طور پر موگہ کہا جاتا ہے، میں مداخلت کرکے پانی اپنے اور دیگر حصے داروں کے کھیتوں کی جانب موڑا۔ ایسے مقدمات میں محکمہ عام طور پر آبی راستے میں غیر مجاز تبدیلی، مقررہ حصے سے زیادہ پانی لینے یا دوسرے حصے داروں کے حق کو متاثر کرنے کے پہلوؤں کی جانچ کرتا ہے۔
زرعی علاقوں میں نہری پانی کی منصفانہ تقسیم فصلوں کی پیداوار اور کسانوں کے درمیان تنازعات سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ بالخصوص کم پانی کے ادوار میں غیر مجاز استعمال سے ٹیل کے علاقوں تک پانی کی رسائی متاثر ہوسکتی ہے۔ حکام کی جانب سے 294 مقدمات کا اندراج کارروائی کے حجم کو ظاہر کرتا ہے، تاہم ہر مقدمے کے حقائق الگ ہیں اور محض مقدمہ درج ہونے کو جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا۔ محکمہ آبپاشی نے کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ نہری نظام میں مقررہ حصص کے مطابق پانی کی تقسیم یقینی بنائی جاسکے۔
