کنگن پور: ضلع قصور کے قصبے کنگن پور میں گھر میں تیار کی گئی کھیر کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق ہوگئے۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد کو کھیر کھانے کے بعد شدید پیٹ درد اور قے کی شکایت ہوئی، جس کے بعد انہیں طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا، تاہم پانچوں افراد جانبر نہ ہوسکے۔
جاں بحق افراد میں قاسم علی، ان کی اہلیہ حسینہ بی بی اور ان کے تین بیٹے 28 سالہ آصف، 25 سالہ ناظم اور 15 سالہ امانت شامل ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں روانہ کی گئیں اور متاثرہ افراد کو ابتدائی مدد کے بعد ہسپتال پہنچایا گیا۔ واقعے نے ایک ہی گھر کے پانچ افراد کی جان لے لی اور علاقے میں سوگ کی فضا پیدا ہوگئی۔
مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ گھر میں کھیر تیار کرتے وقت اس میں چھپکلی گر گئی تھی اور خاندان کے سربراہ نے اسے نکالنے کے بعد کھیر استعمال کی، تاہم اس دعوے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے کھیر کی آلودگی یا اموات کی کسی مخصوص وجہ کو حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں اور اصل سبب کا تعین طبی، فرانزک اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
پنجاب کے وزیر قانون رانا محمد اقبال خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر قصور سے رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے حکام کو واقعے کی مکمل چھان بین، حقائق سامنے لانے اور اموات کی وجہ معلوم کرنے کی ہدایت کی۔ واقعے میں ابتدائی اطلاعات اور مقامی دعووں کے درمیان فرق کی وجہ سے سرکاری تحقیقات خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ کسی ممکنہ زہریلے مادے، خوراک کی خرابی یا دوسرے طبی سبب کے بارے میں نتیجہ تحقیقات سے پہلے اخذ نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکام کی حتمی رپورٹ یہ واضح کرے گی کہ خاندان کے افراد میں علامات کس وجہ سے پیدا ہوئیں اور آیا واقعہ خوراک کی آلودگی سے منسلک تھا یا کوئی دوسرا عامل ذمہ دار تھا۔
