فیصل آباد: ضلع فیصل آباد میں گزشتہ پندرہ روز کے دوران مختلف پرتشدد واقعات میں کم از کم 16 افراد کے قتل کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ پولیس کے حوالے سے رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 28 اکتوبر 2026 تک ضلع میں مجموعی طور پر 226 افراد قتل ہوئے۔ ان میں 61 خواتین بھی شامل بتائی گئی ہیں۔ تازہ اعداد و شمار نے مقامی سطح پر امن و امان اور جرائم میں کمی کے سرکاری دعوؤں پر نئی بحث پیدا کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پولیس اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جرائم میں 68 فیصد کمی کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم حالیہ قتل کے واقعات کے باعث ان دعوؤں کی نوعیت اور استعمال ہونے والے پیمانوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ قتل کے مجموعی اعداد و شمار اور جرائم کی شرح میں کمی کا دعویٰ مختلف زمروں، تقابلی ادوار اور پولیس ڈیٹا کے طریقۂ کار پر منحصر ہوسکتا ہے، اس لیے دونوں اعداد کو براہ راست ایک ہی پیمانے کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔

حالیہ واقعات میں صدر جڑانوالہ پولیس کی حدود میں چک 108-جی بی اسٹاپ کے قریب فائرنگ کا ایک واقعہ بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق فردوس بی بی نامی خاتون جاں بحق جبکہ ان کے شوہر رضوان شدید زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق تین مسلح افراد نے مبینہ طور پر فائرنگ کی۔ یہ واقعہ زیر تفتیش ہے اور حملہ آوروں کی شناخت، محرک اور قانونی ذمہ داری کے بارے میں حتمی نتیجہ تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی اخذ کیا جاسکتا ہے۔

ضلع میں قتل کے واقعات کا یہ سلسلہ پولیسنگ، تفتیشی صلاحیت اور پرتشدد جرائم کی روک تھام کے اقدامات کی مؤثریت سے متعلق اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے درست تجزیے کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کتنے مقدمات میں ملزمان گرفتار ہوئے، کتنے کیسز عدالتوں تک پہنچے اور مختلف نوعیت کے جرائم میں سال بہ سال کیا تبدیلی آئی۔ فی الحال دستیاب معلومات 15 روز میں 16 ہلاکتوں اور رواں سال 28 اکتوبر تک 226 قتل کی رپورٹ شدہ تعداد ظاہر کرتی ہیں، جبکہ ہر انفرادی مقدمے کی قانونی حیثیت الگ ہے۔