اسلام آباد: وزارتِ داخلہ نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران تین لاکھ 26 ہزار سے زیادہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے، جبکہ سب سے زیادہ منسوخیاں 2026 میں ریکارڈ ہوئیں۔ ایوان میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 2 لاکھ 55 ہزار 139 شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے۔

وزارت کی فراہم کردہ سالانہ تفصیل کے مطابق 2025 میں 624، 2024 میں 8 ہزار 500، 2023 میں 117 اور 2022 میں 62 شناختی کارڈ منسوخ کیے گئے۔ ان اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2026 میں منسوخیوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ رہی۔ وزارت نے قومی اسمبلی میں جواب دیتے ہوئے اس کارروائی کو شناختی دستاویزات کی جانچ اور ایسے کارڈز کی منسوخی سے جوڑا جو متعلقہ حکام کے مطابق غیر قانونی یا دھوکہ دہی کے طریقوں سے حاصل کیے گئے تھے۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق افغان شہریوں کی جانب سے جعلسازی اور فراڈ کے ذریعے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے کے کیسز سامنے آئے اور جن شناختی کارڈز کے بارے میں یہ طے کیا گیا کہ وہ دھوکہ دہی سے حاصل ہوئے تھے انہیں منسوخ کیا گیا۔ یہ سرکاری مؤقف انتظامی کارروائی کی بنیاد بیان کرتا ہے؛ ہر متاثرہ فرد کے کیس کی نوعیت، ثبوت اور ممکنہ اپیل یا عدالتی کارروائی الگ ہوسکتی ہے، اس لیے مجموعی اعداد کو ہر کارڈ ہولڈر کے خلاف یکساں نوعیت کے ثابت شدہ جرم کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

قومی شناختی کارڈ شہریت، ووٹر رجسٹریشن، بینکاری، جائیداد، موبائل سم اور متعدد سرکاری و نجی خدمات تک رسائی کے لیے بنیادی دستاویز ہے، اس لیے کسی کارڈ کی منسوخی کے وسیع قانونی اور عملی اثرات ہوسکتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اعداد پیش ہونے سے شناختی نظام کی جانچ، جعلی دستاویزات کی روک تھام اور متاثرہ افراد کے قانونی حقوق سے متعلق پالیسی سوالات بھی سامنے آتے ہیں۔ وزارت کی جانب سے دی گئی مختصر تفصیل میں تمام منسوخیوں کی صوبہ وار تقسیم یا ہر کیس کے طریقۂ کار کی مکمل وضاحت نہیں دی گئی، تاہم پانچ سالہ مجموعی تعداد اور 2026 کی نمایاں چھلانگ سرکاری شناختی نظام میں جاری بڑے پیمانے کی جانچ کی نشاندہی کرتی ہے۔