کراچی: سندھ میں ایم پاکس کا ایک اور کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے بیماری کی نگرانی، بروقت تشخیص اور پھیلاؤ محدود کرنے کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ حکام کا اجلاس طلب کیا ہے۔ صحت حکام کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں رواں سال اب تک ایم پاکس کے 98 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 12 مریضوں کی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
تازہ کیس میں ایک خاتون کو نیپا کے قریب سندھ انفیکشس ڈیزیز ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں منتقل کیا گیا ہے۔ ہسپتال حکام کے مطابق مریضہ کو دو روز قبل لایا گیا تھا، جہاں اس کے نمونے پولیمریز چین ری ایکشن، یعنی پی سی آر، ٹیسٹ کے لیے لیے گئے۔ نتائج آنے کے بعد ایم پاکس انفیکشن کی تصدیق ہوئی۔ ہسپتال حکام نے بتایا کہ اس وقت ادارے میں سات ایم پاکس مریض زیر علاج ہیں۔
محکمہ صحت کی توجہ اب نئے کیسز کی جلد شناخت، رابطوں کی نگرانی، مشتبہ مریضوں کی جانچ اور طبی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے اقدامات پر مرکوز ہے۔ ایم پاکس قریبی جسمانی رابطے اور متاثرہ مواد سے منتقل ہوسکتا ہے، اس لیے صحت حکام کے لیے مریضوں کی بروقت تشخیص اور مناسب احتیاطی تدابیر اہم ہیں۔ رپورٹ شدہ 98 کیس اور 12 اموات صوبائی محکمہ صحت کے دستیاب اعداد و شمار ہیں اور آئندہ نگرانی کے دوران مجموعی تعداد میں تبدیلی آسکتی ہے۔
نئے کیس کے بعد بلایا گیا اجلاس اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبائی حکومت بیماری کو محض انفرادی کیس کے بجائے نگرانی کے مسلسل مسئلے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ صحت کے نظام کے لیے اہم چیلنج یہ ہے کہ علامات رکھنے والے افراد کی بروقت جانچ ہو، شدید مریضوں کو مناسب نگہداشت ملے اور ایسے رابطوں کی شناخت کی جائے جن میں وائرس منتقل ہونے کا امکان ہو۔ عوامی سطح پر مستند طبی معلومات کی فراہمی بھی ضروری ہے تاکہ غیر ضروری خوف یا مریضوں کے ساتھ امتیازی رویے کے بجائے علامات، ٹیسٹنگ اور علاج سے متعلق درست رہنمائی سامنے رہے۔
