اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سروس معاملات سے متعلق ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ کسی ملازم کو محض اس وجہ سے قانونی طور پر دستیاب فائدے سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ متعلقہ محکمانہ یا انتظامی عمل بروقت مکمل نہ ہو سکا، خصوصاً جب تاخیر ملازم کے اختیار سے باہر ہو۔ عدالت نے پنجاب حکومت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے پہلے فیصلے کو برقرار رکھا۔

مقدمہ ڈاکٹر منیر احمد ملک سے متعلق تھا، جو پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکے تھے۔ عدالت کے مطابق متعلقہ سلیکشن بورڈ ان کی تعیناتی کے عرصے میں اجلاس نہ کر سکا یا درکار منظوری بروقت نہ دے سکا، لیکن اس انتظامی تاخیر کا بوجھ ملازم پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ عدالتی مشاہدے میں واضح کیا گیا کہ اگر کوئی فائدہ قانون اور سروس قواعد کے تحت دستیاب ہو تو صرف محکمے کی سستی، تاخیر یا داخلی عمل کی وجہ سے اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اس اصول کو وسیع سروس لا کے تناظر میں دیکھا اور قرار دیا کہ ریاستی اداروں کی اندرونی تاخیر، بیوروکریٹک رکاوٹ یا انتظامی کوتاہی سے ملازم کے ایسے حق کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے جو دوسری صورت میں قانوناً قابل حصول ہو۔ عدالت نے اس نوعیت کے سابق عدالتی اصولوں کا بھی حوالہ دیا جن میں سرکاری ملازمین کو محکمانہ تاخیر کے منفی اثرات سے تحفظ دیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت نے 10 جنوری 2025 کے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے اپیل مسترد ہونے کے بعد ہائی کورٹ کا حکم برقرار رہے گا۔ فیصلے کی عملی اہمیت یہ ہے کہ سرکاری محکموں کو سروس فوائد، ترقی، منظوری یا دیگر جائز حقوق سے متعلق معاملات میں اپنی تاخیر کو ملازم کے خلاف بنیاد بنانے سے گریز کرنا ہوگا۔

یہ فیصلہ ہر سروس کیس میں خودکار طور پر ایک ہی نتیجہ لازم نہیں کرتا، کیونکہ حتمی اطلاق متعلقہ قانون، قواعد اور مقدمے کے حقائق پر منحصر ہوگا۔ تاہم عدالت نے واضح قانونی اصول قائم کیا ہے کہ کسی ایسے انتظامی عمل کی تاخیر جس پر ملازم کا کوئی اختیار نہ ہو، اسے اس کے جائز قانونی حق یا فائدے سے محروم کرنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔