اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اس کے کسی فیصلے یا حکم میں ایسی آبزرویشن جو قانون کے کسی سوال کا فیصلہ کرے یا کسی قانونی اصول کو بیان کرے، آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت ملک کی تمام عدالتوں، بشمول سپریم کورٹ، پر پابند اثر رکھتی ہے۔ یہ قانونی تشریح 27ویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے باہمی دائرہ اختیار سے متعلق جاری بحث کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 16 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے تحریر کیا، جبکہ تین رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس امین الدین خان نے کی۔ مقدمہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی، آئی سی ٹی پیرا، میں دو مستقل تقرریوں سے متعلق تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں آرٹیکل 189(1) کی ترمیم شدہ عبارت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے جہاں قانون کے سوالات طے کریں یا قانونی اصول وضع کریں وہاں وہ دیگر عدالتوں کے لیے پابند ہیں۔
فیصلے میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا کہ پابند اثر صرف فیصلے کی بنیادی قانونی وجہ، یعنی ratio decidendi، تک محدود نہیں بلکہ ایسی obiter dicta آبزرویشن تک بھی پھیل سکتا ہے جو قانون کا سوال طے کرے یا اصولِ قانون بیان کرے۔ یہ نکتہ عدالتی نظیر کے دائرہ کار کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ عمومی طور پر عدالتیں کسی فیصلے کے بنیادی قانونی اصول اور ضمنی مشاہدات کے درمیان فرق کرتی ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے اختیارات اور مقدمات کی منتقلی سے متعلق عملی سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کی طبی منتقلی سے متعلق ایک معاملے کی سماعت کے دوران متعلقہ ریکارڈ طلب کیا تھا، جبکہ بعد میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس پیش رفت پر سوالات اٹھائے تھے۔ ان معاملات کی کارروائی اپنی جگہ جاری قانونی عمل ہے اور موجودہ فیصلے کو انہی زیر التوا مقدمات کا حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
وفاقی آئینی عدالت کا تازہ فیصلہ بنیادی طور پر آئین کے ترمیم شدہ آرٹیکل 189 کی اپنی تشریح پیش کرتا ہے۔ مستقبل میں اس تشریح کا عملی اثر اس وقت مزید واضح ہوگا جب دونوں اعلیٰ عدالتوں کے سامنے ایسے مقدمات آئیں گے جن میں ایک عدالت کے قانونی اصول یا حکم کی دوسری عدالت پر پابندی کا سوال براہ راست اٹھے۔ فی الحال عدالت نے واضح الفاظ میں اپنی قانونی آبزرویشنز کے پابند اثر کا دائرہ سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتوں تک قرار دیا ہے۔

