کراچی: کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) نے قصبہ ٹاؤن شپ میں تقریباً 2,300 مربع گز پر مشتمل ایک ایمنٹی پلاٹ سے تجاوزات ہٹا کر زمین واگزار کرانے کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق کے ڈی اے کے اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ شعبے نے کارروائی کرتے ہوئے پلاٹ پر قائم غیر قانونی تعمیرات مسمار کیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ زمین تقریباً 22 سال سے غیر قانونی قبضے میں تھی۔

کے ڈی اے کے ترجمان کے مطابق واگزار کرایا گیا پلاٹ قصبہ ٹاؤن شپ میں ایمنٹی پلاٹ نمبر ST-37/4 ہے، جسے اعوانِ اتحاد مرکز کے نام سے بھی شناخت کیا جاتا ہے۔ کارروائی سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے زین العابدین انصاری کی ہدایات پر کی گئی، جبکہ آپریشن کی نگرانی ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ سید زین علی شاہ نے کی۔

ادارے کے مطابق انفورسمنٹ ٹیم نے موقع پر موجود غیر قانونی ڈھانچوں اور چھوٹے گھروں کی نشاندہی کے بعد انہیں مسمار کیا اور زمین کو تجاوزات سے صاف کیا۔ کے ڈی اے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایمنٹی زمین عوامی مقاصد کے لیے مختص ہوتی ہے اور اسے نجی قبضے یا غیر مجاز تعمیرات کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

کراچی میں سرکاری اور رفاہی مقاصد کے لیے مختص زمین پر تجاوزات ایک دیرینہ انتظامی مسئلہ ہے۔ ایسی کارروائیوں میں ملکیت کے ریکارڈ، الاٹمنٹ کی نوعیت اور عدالتی احکامات اہم ہوتے ہیں۔ موجودہ معاملے میں واگزاری اور قبضے کی مدت سے متعلق تفصیلات کے ڈی اے کے سرکاری مؤقف پر مبنی ہیں؛ رپورٹ میں کسی متاثرہ فریق کا متبادل دعویٰ یا عدالتی حکم بیان نہیں کیا گیا۔

کے ڈی اے نے کہا ہے کہ سرکاری اور ایمنٹی اراضی کے تحفظ کے لیے انسداد تجاوزات مہم جاری رہے گی اور واگزار زمین کو اس کے اصل مختص عوامی مقصد کے مطابق محفوظ کیا جائے گا۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی بلاامتیاز جاری رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔ زمین کے آئندہ استعمال، ترقیاتی منصوبے یا عوامی سہولت کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ منظوریوں کے بعد سامنے آئیں گی۔