اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی ان اپیلوں پر اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کر دیے ہیں جن میں درخواست گزاروں نے نجی اسپتال میں علاج اور بعض مواصلاتی سہولتوں کی اجازت مانگی ہے۔ دی نیوز کے مطابق تین رکنی بینچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے اور جس میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے، نے 14 ستمبر کو تین الگ الگ درخواستوں کی سماعت کی۔

یہ اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 31 اگست کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہیں۔ ہائیکورٹ نے اس موقف کو قبول نہیں کیا تھا کہ کسی قیدی کو اپنی پسند کے نجی اسپتال منتقل ہونا قانونی حق حاصل ہے۔ اڈیالہ جیل کے قیدی محمد الیاس خان، محمد اسماعیل حسین اور اویس الطاف نے وفاقی آئینی عدالت سے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ درخواست گزاروں نے اپنے مقدمات میں آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیتے ہوئے مساوی سلوک کا اصول اٹھایا ہے۔

سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ قیدیوں کا علاج نجی اسپتالوں میں کیوں ہونا چاہیے اور پولی کلینک یا پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں علاج کیوں ممکن نہیں۔ جسٹس علی باقر نجفی نے جیل مینوئل کے اطلاق کے حوالے سے سوالات اٹھائے اور اس قانونی فریم ورک کی اہمیت پر بات کی جو قیدیوں کے علاج اور ہسپتال منتقلی کے معاملات کو منظم کرتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ معاملے میں قانون کی تشریح کا سوال شامل ہے، جس کے بعد سماعت اگلے روز تک ملتوی کر دی گئی۔

درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے اس حکم کا بھی حوالہ دیا جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی سے متعلق ہدایات دی گئی تھیں۔ ان کا موقف ہے کہ اگر کسی دوسرے قیدی کو سنگین بیماری لاحق ہو اور مناسب علاج کی ضرورت ہو تو اسے بھی اسی نوعیت کی سہولت تک رسائی ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے بیرون ملک مقیم اہل خانہ سے واٹس ایپ رابطے کی اجازت بھی مانگی ہے۔

عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہونا درخواستوں کے حق میں حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ اس مرحلے پر عدالت نے فریقین سے جواب طلب کیا ہے اور قانونی نکات، جیل قواعد اور مساوی سلوک کے دعوے کا جائزہ آئندہ سماعت میں جاری رہے گا۔