اسلام آباد: پاکستان میں ادویات تجویز کرنے کے طریقہ کار پر کیے گئے ایک نئے جائزے میں سامنے آیا ہے کہ مریضوں کو ایک نسخے پر اوسطاً 4.2 ادویات لکھی جا رہی ہیں، جو عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ 1.6 سے 1.8 ادویات کی حد سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ دی نیوز کے مطابق یہ تحقیق اسلام آباد کی ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے محققین نے کی اور اسے جرنل Discover Public Health میں شائع کیا گیا۔

محققین نے 2013 سے 2024 کے دوران پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد کے ہسپتالوں اور کلینکس میں نسخہ نویسی کے رجحانات سے متعلق 15 تحقیقی مطالعات کا جائزہ لیا۔ مقصد یہ جانچنا تھا کہ ملک میں طبی نسخے عالمی ادارہ صحت کے بنیادی prescribing indicators کے کتنے قریب ہیں۔ جائزے کے مطابق تمام منتخب مطالعات میں اوسط ادویات کی تعداد عالمی معیار سے بلند رہی، جبکہ پشاور کے ایک تیسرے درجے کے ہسپتال میں یہ اوسط 10.56 ادویات فی نسخہ تک پہنچی۔

تحقیق میں generic نام سے دوا تجویز کرنے کی شرح بھی کم پائی گئی۔ مجموعی طور پر صرف تقریباً 25 فیصد ادویات generic نام سے لکھی گئیں، حالانکہ عالمی ادارہ صحت کا ہدف 100 فیصد ہے۔ بعض ہسپتالوں میں generic prescribing تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی، جبکہ 15 میں سے صرف دو مطالعات میں یہ شرح 50 فیصد سے زیادہ دیکھی گئی۔ پاکستان کی essential medicines list میں شامل ادویات کا تناسب بھی تقریباً 72 فیصد رہا، جبکہ اصولی ہدف مکمل مطابقت ہے۔

اینٹی بایوٹک کے استعمال کے حوالے سے بھی نمایاں فرق سامنے آیا۔ جائزے کے مطابق اوسطاً 45 فیصد نسخوں میں اینٹی بایوٹک شامل تھی، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ حد 20 سے 26.8 فیصد بتائی گئی ہے۔ انجیکشن 27 فیصد سے زیادہ نسخوں میں شامل تھے، جو 13.4 سے 24.1 فیصد کے عالمی معیار سے بلند ہے۔ مختلف اداروں میں انجیکشن کے استعمال میں بہت بڑا فرق بھی ریکارڈ ہوا۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر اور تحقیق کے مصنفین میں شامل پروفیسر شہزاد علی خان کے مطابق مسئلہ کسی ایک شہر یا ہسپتال تک محدود نہیں بلکہ مختلف سطحوں کے طبی مراکز میں دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق مریضوں کا فوری اثر والی دوا کا تقاضا، ڈاکٹروں پر وقت کا دباؤ اور اینٹی بایوٹک یا انجیکشن کے بارے میں عمومی تصورات اس رجحان میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تحقیق نے باقاعدہ نسخہ آڈٹ، ڈاکٹروں کو feedback، قواعد پر مسلسل عمل درآمد اور صحت حکام، ہسپتالوں، دوا ساز اداروں اور طبی تنظیموں کے درمیان مشترکہ اقدامات کی سفارش کی ہے۔ یہ نتائج خصوصاً antimicrobial resistance کے تناظر میں اہم ہیں، کیونکہ غیر ضروری اینٹی بایوٹک استعمال ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت بڑھانے سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔