لاہور: وفاقی آئینی عدالت کی لاہور رجسٹری میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے غیر محدود سوشل میڈیا استعمال پر پابندی اور ٹیلی ویژن و دیگر پلیٹ فارمز پر بچوں کے لیے نامناسب مواد کے خلاف حفاظتی اقدامات کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست وکلا شیراز ذکا اور معین اختر نے دائر کی، جن میں سے ایک نے خود کو عوامی مفاد کے کارکن اور دوسرے نے ایک کم عمر بچے کا والد قرار دیا ہے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ پاکستانی بچے سائبر بُلنگ، صارف کو مسلسل مصروف رکھنے کے لیے بنائے گئے پلیٹ فارم ڈیزائن، جنسی نوعیت کے مواد اور دیگر ایسے آن لائن رجحانات سے متاثر ہو سکتے ہیں جو ان کے بقول ذہنی اور اخلاقی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہیں۔ یہ نکات درخواست گزاروں کے دعوے ہیں؛ عدالت نے ابھی ان الزامات یا مطلوبہ پابندی کے قانونی جواز پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ متعلقہ سرکاری اداروں کو بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے مؤثر ضابطہ سازی اور عمر کی بنیاد پر رسائی کے نظام پر عمل درآمد کی ہدایت دی جائے۔ معاملہ بنیادی حقوق، والدین کی ذمہ داری، اظہار اور معلومات تک رسائی، بچوں کے تحفظ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی جوابدہی جیسے متعدد قانونی سوالات سے جڑا ہے۔ کسی بھی ممکنہ پابندی کی حتمی شکل عدالتی کارروائی اور حکومتی ضابطہ سازی کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
پاکستان میں کم عمر صارفین کی آن لائن حفاظت سے متعلق بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا کے مختلف ممالک عمر کی تصدیق، والدین کی نگرانی اور سوشل میڈیا تک بچوں کی رسائی محدود کرنے کے مختلف ماڈلز پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم ہر ملک کا آئینی اور قانونی فریم ورک مختلف ہے، اس لیے بیرون ملک اختیار کیے گئے طریقوں کا پاکستان میں خودکار اطلاق نہیں ہوتا۔
موجودہ پیش رفت کو عدالتی حکم یا نافذ شدہ پابندی سمجھنا درست نہیں ہو گا۔ فی الحال یہ ایک دائر شدہ آئینی درخواست ہے جس میں مخصوص ریلیف مانگا گیا ہے۔ عدالت درخواست کے قابل سماعت ہونے، فریقین کے جواب اور قانونی دلائل کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ طے کرے گی کہ کوئی عبوری یا حتمی ہدایت جاری کی جائے یا نہیں۔ اس مرحلے پر 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر ملک گیر عدالتی پابندی نافذ نہیں ہوئی۔




