اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کی نجی تعلیمی اداروں کی ریگولیٹری اتھارٹی، آئی سی ٹی-پیرا، کے دو اہلکاروں کو دی گئی مستقل تقرریاں کالعدم قرار دے دی ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس قانونی نکتے کو مرکزی حیثیت دی کہ جس آرڈیننس کے تحت مستقل حیثیت دی گئی تھی وہ بعد میں برقرار نہیں رہا، اس لیے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ایسے مستقل حقوق کو جاری رکھنا پارلیمان کی قانون سازی کی منشا کو غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق مقدمہ ان تقرریوں سے متعلق تھا جو ایک ایسے قانونی انتظام کے دوران کی گئی تھیں جسے بعد میں منسوخ کر دیا گیا۔ وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ قانونی دفعات، آرڈیننس کی مدت اور اس کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے مستقل تقرریوں کو برقرار رکھنے کے مؤقف سے اتفاق نہیں کیا۔ عدالت کے مطابق عارضی قانون کے ذریعے حاصل کی گئی ایسی حیثیت جسے مقننہ نے مستقل قانونی بنیاد فراہم نہ کی ہو، خود بخود غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی۔

یہ فیصلہ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں ان تقرریوں کے لیے اہم قانونی اصول کی نشاندہی کرتا ہے جو صدارتی یا انتظامی آرڈیننس کے ذریعے متعارف کرائے گئے عارضی قانونی فریم ورک کے دوران کی جاتی ہیں۔ پاکستان کے آئینی نظام میں آرڈیننس محدود مدت کے لیے قانون کا درجہ رکھتا ہے، لیکن اس کی مستقل حیثیت کے لیے آئینی طریقہ کار اور پارلیمانی منظوری ضروری ہوتی ہے۔ عدالت نے اسی تناظر میں اس بات کا جائزہ لیا کہ آرڈیننس ختم ہونے کے بعد اس کے تحت کیے گئے انتظامی اقدامات میں سے کون سے نتائج محفوظ رہ سکتے ہیں۔

آئی سی ٹی-پیرا اسلام آباد میں نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتی ہے۔ ادارے کے انتظامی ڈھانچے میں تقرریوں کی قانونی حیثیت اس لیے بھی اہم ہے کہ ریگولیٹری فیصلوں اور انتظامی اختیارات کا استعمال باقاعدہ قانونی اختیار رکھنے والے اہلکاروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔

عدالت کے فیصلے کا فوری اثر زیر تنازع دو مستقل تقرریوں پر پڑے گا، تاہم اس کے وسیع تر اطلاق کا انحصار دیگر مقدمات کے حقائق، متعلقہ قوانین اور تقرری کی نوعیت پر ہوگا۔ اس فیصلے کو ہر عارضی قانون کے تحت ہونے والی تقرری پر خودکار طور پر لاگو نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ ہر معاملے میں قانونی متن اور پارلیمان کے بعد کے اقدامات مختلف ہو سکتے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت نے اس مقدمے میں بنیادی طور پر پارلیمانی اختیار اور منسوخ شدہ عارضی قانون کے اثرات کے درمیان حد واضح کی ہے۔