اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے یہ حکم اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی اپیلوں کی سماعت کے دوران دیا، جنہوں نے نجی ہسپتال میں علاج اور بعض دیگر سہولتوں کے لیے اسی نوعیت کی رعایت مانگی ہے جو ان کے مطابق عمران خان کو دی گئی تھی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی شامل تھے۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کے معاملے میں سپریم کورٹ کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔ ان کا موقف تھا کہ آئین کے آرٹیکل 175E(5) کے تحت وفاقی آئینی عدالت کسی ایسے معاملے میں عدالتی ریکارڈ منگوا سکتی ہے جس میں آئینی تشریح کا سوال شامل ہو۔
عدالت کے سامنے بنیادی سوال اس دائرۂ اختیار سے متعلق رہا کہ قیدیوں کی طبی سہولتوں، بنیادی حقوق اور قانون کی مساوی اطلاق سے جڑے ایسے مقدمات میں آئینی تشریح کس عدالت کے دائرۂ کار میں آتی ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے اس نکتے پر سوالات اٹھائے، جبکہ جسٹس عامر فاروق نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ میں زیرِ غور معاملہ فوجداری نوعیت کا تھا اور موجودہ اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سامنے آئی ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 18 اگست کا سپریم کورٹ حکم عبوری نوعیت کا تھا۔
تحریری حکم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کو متعلقہ کیس کا ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں اسی نوعیت کے زیرِ التوا مقدمات کے ریکارڈ بھی طلب کیے گئے۔ اسلام آباد اور پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرلز کو اگلی سماعت پر جامع جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
یہ اپیلیں محمد الیاس خان، محمد اسماعیل حسین اور اویس الطاف کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔ ان کی درخواستیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 31 اگست کو مسترد کر دی تھیں۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ کسی قیدی کو اپنی پسند کے نجی ہسپتال منتقل ہونے کا قانونی حق حاصل نہیں اور قیدیوں کے علاج کی بنیادی ذمہ داری ریاستی انتظامی ڈھانچے اور سرکاری ہسپتالوں پر عائد ہوتی ہے۔
درخواست گزاروں نے آئین کے آرٹیکل 25، یعنی قانون کے سامنے مساوات، کا حوالہ دیتے ہوئے استدلال کیا کہ انہیں بھی وہ طبی سہولتیں ملنی چاہییں جن کا حوالہ عمران خان سے متعلق 18 اگست کے سپریم کورٹ حکم میں دیا گیا تھا۔ انہوں نے بیرون ملک افراد سے واٹس ایپ رابطے جیسی سہولتوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ابھی ان مطالبات کے حق یا مخالفت میں حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ موجودہ مرحلے پر عدالت نے متعلقہ عدالتی ریکارڈ اور سرکاری فریقوں کے جواب طلب کیے ہیں تاکہ دائرۂ اختیار، قانون کی تشریح اور مساوی سلوک کے سوالات کو مزید تفصیل سے دیکھا جا سکے۔
