اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں یہ منظوری وزارت دفاع کی سفارش پر دی گئی، جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کے لیے پہلے سے طے شدہ فریم ورک کو وفاقی سطح پر باضابطہ توثیق حاصل ہو گئی۔
سرکاری معلومات کے مطابق پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کا متعلقہ معاہدہ جون 2023 میں طے پایا تھا۔ وفاقی کابینہ کی تازہ منظوری اس معاہدے کی توثیق کا انتظامی مرحلہ ہے۔ دستیاب سرکاری تفصیلات میں تعاون کے تمام عملی شعبوں، کسی مخصوص دفاعی خریداری، مشترکہ تعیناتی یا نئے فوجی آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے کابینہ کی توثیق کو ایسے کسی الگ فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے جس کی باضابطہ تصدیق نہ ہوئی ہو۔
پاکستان اور کویت کے تعلقات خلیجی خطے میں سفارتی، اقتصادی اور دفاعی روابط پر مشتمل ہیں۔ دونوں ممالک مختلف ادوار میں تربیت، ادارہ جاتی رابطوں اور سکیورٹی تعاون کے معاملات پر رابطہ رکھتے آئے ہیں۔ موجودہ توثیق اسی دوطرفہ تعلق کے دفاعی پہلو کو باضابطہ قانونی اور انتظامی بنیاد فراہم کرنے کے عمل کا حصہ ہے۔
کابینہ اجلاس میں دفاعی معاہدے کے علاوہ دیگر قومی امور بھی زیر غور آئے۔ وزیراعظم نے حکومتی پالیسیوں، معاشی صورتحال اور مختلف وزارتوں کی کارکردگی سے متعلق امور پر گفتگو کی۔ تاہم پاکستان اور کویت کے دفاعی معاہدے سے متعلق اصل قابل تصدیق پیش رفت کابینہ کی توثیق ہے، جبکہ اس کے تحت مستقبل میں ہونے والی مخصوص سرگرمیوں کے بارے میں الگ سرکاری اعلانات درکار ہوں گے۔
دفاعی تعاون کے بین الحکومتی معاہدوں میں عموماً تربیت، وفود کے تبادلے، ادارہ جاتی روابط، تکنیکی تعاون اور دیگر باہمی مفاد کے شعبے شامل ہو سکتے ہیں، لیکن موجودہ معاہدے کی مکمل شقیں عوامی سطح پر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ان عمومی امکانات کو اس معاہدے کی حتمی شرائط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت کی جانب سے جو تفصیلات جاری کی گئی ہیں، ان کی حد تک کابینہ نے معاہدے کی توثیق کی منظوری دی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد اگلا عملی مرحلہ دونوں ملکوں کے متعلقہ دفاعی اور سفارتی اداروں کی جانب سے معاہدے کے تحت تعاون کے پروگراموں اور طریقہ کار پر عمل درآمد ہو سکتا ہے۔ کسی بھی نئے منصوبے، تربیتی پروگرام یا دفاعی انتظام کی نوعیت اس وقت واضح ہوگی جب پاکستان یا کویت کے حکام اس بارے میں مزید باضابطہ معلومات جاری کریں گے۔
