اسلام آباد: پاکستان اور برطانیہ نے سالانہ دوطرفہ انسداد دہشت گردی مذاکرات میں افغانستان میں اور وہاں سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے مسلسل خطرے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے وفود نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں علاقائی اور عالمی سلامتی کی صورتحال، سرحد پار دہشت گردی اور بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس سے لاحق خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان اور برطانیہ نے دہشت گردی کی تمام شکلوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور جاری دوطرفہ و کثیرالجہتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں جانب سے خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان سمیت ان گروہوں کے خطرے کا ذکر کیا گیا جو افغانستان میں موجود ہیں یا وہاں سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ فریقین نے اس امر پر زور دیا کہ ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان پورے خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔

برطانوی وفد نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ہونے والے جانی نقصان پر تعزیت کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کی تجدید کی۔ مذاکرات میں دہشت گردی کے بدلتے طریقوں سے نمٹنے کے لیے تجربات اور بہترین عملی طریقہ کار کے تبادلے پر بھی گفتگو ہوئی۔ دفتر خارجہ کے مطابق غلط معلومات اور منظم گمراہ کن مہمات، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استحصال اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے نئے رجحانات بھی ایجنڈے میں شامل تھے۔

دونوں ملکوں نے ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے اور انسداد دہشت گردی کے مشترکہ مقاصد کے لیے باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ برطانوی فریق نے علاقائی استحکام اور سلامتی میں پاکستان کی کوششوں کا اعتراف بھی کیا۔ اگلے سالانہ مذاکرات 2027 میں لندن میں باہمی طور پر طے شدہ تاریخوں پر منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

پاکستان حالیہ برسوں میں افغان حکام سے مسلسل مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے اور وہاں موجود ٹی ٹی پی سمیت مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔ کابل میں طالبان انتظامیہ ماضی میں ان الزامات کی مختلف مواقع پر تردید کرتی رہی ہے۔ اس لیے پاکستان اور برطانیہ کے مشترکہ بیان میں درج خدشات کو دونوں ملکوں کا سفارتی اور سکیورٹی مؤقف سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی نئے عدالتی یا بین الاقوامی تحقیقاتی نتیجے کے طور پر۔

سالانہ مذاکرات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ انسداد دہشت گردی تعاون کو صرف روایتی سکیورٹی کارروائیوں تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ آن لائن انتہا پسندی، نئی ٹیکنالوجی اور معلوماتی خطرات کو بھی تعاون کے دائرے میں شامل کر رہے ہیں۔ آئندہ مرحلے میں دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان عملی تعاون، معلومات کے تبادلے اور تربیتی رابطوں کی نوعیت مزید سرکاری اعلانات سے واضح ہوگی۔