اٹک: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ضلع اٹک میں تقریباً 23 ارب روپے مالیت کے 127 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق ان منصوبوں کا تعلق سڑکوں، تعلیم، صحت، زراعت اور شہری و سرکاری خدمات سے ہے اور ان کا مقصد ضلع میں بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں کو بہتر بنانا ہے۔

تقریب کے دوران وزیراعلیٰ کو ضلع میں مکمل کیے گئے اور زیر عمل ترقیاتی کاموں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ سرکاری معلومات کے مطابق منصوبوں میں 59 سڑکوں کی تعمیر اور بحالی کے کام شامل ہیں، جن پر مجموعی طور پر اربوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے سڑکوں کے ان منصوبوں کو دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے، سفری وقت کم کرنے اور مقامی معاشی سرگرمی میں سہولت پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا۔

اٹک میں زرعی شعبے کے لیے ایگری مال اور کسانوں کو خدمات فراہم کرنے سے متعلق سہولتوں کو بھی ترقیاتی پیکیج کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اسی طرح لینڈ ریکارڈ سے متعلق سرکاری خدمات کو بہتر بنانے کے لیے نئے یا اپ گریڈ کیے گئے مراکز پر بھی کام کیا گیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد شہریوں کو زمین کے ریکارڈ اور دیگر انتظامی امور کے لیے نسبتاً آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں اسکولوں اور دیگر اداروں کی بہتری کے ساتھ صوبائی حکومت نے طلبہ کے لیے اپنے جاری پروگراموں کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعلیٰ نے ہونہار اسکالرشپ اور دیگر تعلیمی اقدامات کو نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھانے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ تاہم کسی پروگرام کے استفادہ کنندگان کی حتمی تعداد اور اخراجات کا جائزہ متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور الگ منصوبہ جاتی تفصیلات کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔

صحت اور مقامی سہولتوں کے منصوبے بھی اٹک کے پیکیج میں شامل ہیں۔ صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ بنیادی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف سرکاری عمارتوں اور سہولتوں کی تعمیر یا بحالی کی گئی ہے۔ افتتاح کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے ان منصوبوں کو مکمل یا استعمال کے لیے تیار قرار دیا ہے، تاہم ان کی طویل مدتی کارکردگی اور عوامی اثرات کا تعین عملی استعمال اور بعد کی نگرانی سے ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے تقریب سے خطاب میں اپنی حکومت کی ترقیاتی ترجیحات کا دفاع کیا اور کہا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں انفراسٹرکچر اور سماجی شعبوں پر سرمایہ کاری جاری رکھی جائے گی۔ اٹک میں اعلان کردہ 127 منصوبے اسی صوبائی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ منصوبوں کی لاگت، تکمیل کے معیار اور خدمات کی فراہمی کے نتائج آئندہ بجٹ اور محکمانہ نگرانی میں اہم پیمانے رہیں گے۔