اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے 23 جلدوں پر مشتمل احمدیہ اشاعت ’روحانی خزائن‘ پر پنجاب حکومت کی پابندی اور نسخے ضبط کرنے کے اقدام کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ہیں۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ بھی شامل تھے، نے مقدمات کا مشترکہ فیصلہ سنایا اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

ڈان کے مطابق درخواست گزاروں نے پنجاب حکومت کے اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا جو 25 جون 2014 کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 99-اے کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعے متعلقہ 23 جلدوں پر پابندی عائد کرکے ان کے نسخے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا۔ درخواست گزار لاہور ہائی کورٹ اور اس کے ملتان بینچ کے 2024 اور 2025 کے فیصلوں کے خلاف وفاقی آئینی عدالت پہنچے تھے۔

درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ انتظامی کارروائی آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت مذہبی آزادی کے حق سے متصادم ہے۔ عدالت کے 13 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 20 مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، لیکن یہ حق قانون، عوامی پالیسی اور اخلاقیات کی شرائط کے تابع ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ پابندی کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے متعلقہ مواد اور انتظامی کارروائی کی بنیاد کا جائزہ ضروری تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق علما بورڈ نے مواد کا جائزہ لینے کے بعد اسے مسلم برادری میں نفرت پیدا کرنے کا باعث قرار دیتے ہوئے ضبط کرنے کی سفارش کی تھی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پنجاب رولز آف بزنس کے تحت ہوم ڈیپارٹمنٹ کو متعلقہ امور میں کارروائی کا اختیار حاصل تھا اور چیف سیکریٹری کے دفتر سے جاری اقدام قانونی اختیارات کے دائرے میں تھا۔

یہ فیصلہ مذہبی آزادی کے دائرہ کار اور اشاعتی مواد پر ریاستی پابندی سے متعلق ایک حساس آئینی مقدمہ ہے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کے قانونی اعتراضات مسترد کیے ہیں؛ رپورٹ میں کسی مذہبی عقیدے یا کمیونٹی کے بارے میں عدالت یا فریقین کے دلائل کو ان کے قانونی سیاق کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے، نہ کہ کسی مذہبی دعوے کی توثیق کے طور پر۔