وفاقی حکومت نے معذور افراد کے لیے سرکاری ملازمتوں میں دو فیصد کوٹہ مختص رکھنے کی پالیسی کی تفصیل سینیٹ میں پیش کی ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے تحریری جواب کے مطابق یہ کوٹہ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری رائٹس آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2020 کے تحت نافذ ہے۔ قانون 23 ستمبر 2020 کو جاری ہوا تھا۔
جواب میں واضح کیا گیا کہ مقررہ کوٹہ ہر بنیادی پے اسکیل میں الگ الگ نشست کے طور پر نہیں بلکہ کسی ادارے کی مجموعی منظور شدہ افرادی قوت کے حساب سے برقرار رکھا جائے گا۔ اس وضاحت سے بھرتی کے اعداد کا جائزہ پورے ادارے کی سطح پر لیا جائے گا، نہ کہ صرف کسی ایک گریڈ میں خالی نشست دیکھ کر۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے قانون اور وزیراعظم کی ہدایات کے تحت 18 جون 2021 کو تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے یکساں ہدایات جاری کی تھیں۔ تازہ پیش رفت میں 21 جولائی 2026 کو تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو خط بھیجا گیا ہے جس میں دو فیصد کوٹے کے تحت آنے والی خالی آسامیوں کی نئی معلومات طلب کی گئی ہیں۔
معلومات طلب کرنا عمل درآمد کی نگرانی کا مرحلہ ہے، خود بخود بھرتی یا تقرر کا اعلان نہیں۔ موجودہ پارلیمانی جواب میں مجموعی خالی نشستوں کی تعداد، وزارت وار کمی، اشتہار کی تاریخ یا بھرتی کا مکمل شیڈول شامل نہیں۔ امیدواروں کو کسی بھی نئی آسامی کے لیے متعلقہ ادارے کے باقاعدہ اشتہار اور اہلیت کی شرائط دیکھنا ہوں گی۔
کوٹے کی حقیقی افادیت اس بات سے جانچی جائے گی کہ وزارتیں درست اعداد جمع کراتی ہیں، خالی نشستیں اشتہار میں واضح ہوتی ہیں اور منتخب امیدواروں کو قابلِ رسائی کام کی جگہ میسر آتی ہے۔ موجودہ جواب قانونی بنیاد اور ڈیٹا جمع کرنے کی تازہ ہدایت کی تصدیق کرتا ہے، مگر نفاذ کے مکمل نتائج ابھی سامنے نہیں آئے۔
اردو ہیڈ لائنز وزارت وار خالی آسامیوں، بھرتی کے اشتہارات یا کوٹے پر عمل درآمد کی سرکاری رپورٹ جاری ہونے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔ فی الحال تصدیق شدہ بات دو فیصد وفاقی کوٹہ، مجموعی منظور شدہ افرادی قوت پر اس کا اطلاق اور وزارتوں سے جولائی 2026 میں مانگی گئی تازہ معلومات ہیں۔




