وفاقی حکومت نے کراچی اور حیدرآباد کے درمیان نئی ایم 10 موٹروے کو 2028 تک مکمل کرنے کا ہدف بیان کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں پارلیمانی سیکریٹری برائے مواصلات گل اصغر خان نے بتایا کہ منصوبے کو تقریباً پچاس پچاس کلومیٹر کے پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ مختلف ذرائع سے سرمایہ کاری حاصل کی جاسکے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق منصوبے کے لیے 400 ملین ڈالر سے زیادہ سرمایہ درکار ہے۔ ماضی میں سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی اور سرکاری فنڈز کی کمی کے باعث کام طویل عرصے تک رکا رہا۔ اب پانچوں حصوں کو بین الاقوامی سطح پر پیش کیا گیا، جن میں سے تین کے لیے مختلف مالی انتظام سامنے آئے ہیں اور ان میں اسلامی ترقیاتی بینک بھی شامل ہے۔

فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے دو حصوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ بعض حصوں کی خریداری کا عمل تکمیل کے قریب بتایا گیا۔ یہ دلچسپی حتمی تعمیراتی معاہدے یا مکمل مالی بندوبست کے برابر نہیں؛ ہر پیکیج کے ٹھیکے، لاگت اور کام شروع ہونے کی تاریخ کی الگ سرکاری تصدیق ضروری ہوگی۔ 2028 کی تاریخ موجودہ ہدف ہے، ضمانت شدہ تکمیل نہیں۔

پارلیمانی سیکریٹری نے واضح کیا کہ موجودہ ایم 9 راستہ ایکسپریس وے کے طور پر خدمات جاری رکھے گا، جبکہ نئی ایم 10 براہ راست کراچی–حیدرآباد رابطہ فراہم کرنے کے لیے تیار کی جارہی ہے۔ ایم 10 کی فزیبلٹی مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی اور موجودہ راستے کو بائی پاس کرنے والے نئے موٹروے لنک پر کام آگے بڑھانے کا ذکر ہوا۔

منصوبے میں پانچ حصوں کا طریقہ سرمایہ کاری تقسیم کرنے اور مختلف پیکیجز کو الگ رفتار سے چلانے میں مدد دے سکتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں تکمیل کی مجموعی تاریخ سب سے سست یا غیر مالیاتی حصے سے متاثر ہوسکتی ہے۔ موجودہ رپورٹ زمین کے حصول، حتمی ماحولیاتی منظوری، ٹول پالیسی یا ہر انٹرچینج کی تفصیل شامل نہیں کرتی۔

کراچی اور حیدرآباد کے درمیان نئی موٹروے کے بارے میں اگلی قابلِ تصدیق پیش رفت پیکیج وار ٹھیکوں، مالی معاہدوں، عملی تعمیر اور جسمانی پیش رفت کے اعداد ہوں گے۔ اردو ہیڈ لائنز 2028 کے سرکاری ہدف کو اسی حیثیت سے پیش کر رہا ہے اور اسے مکمل شدہ منصوبہ یا طے شدہ افتتاحی تاریخ قرار نہیں دے رہا۔