اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پنشن کی ادائیگی اور ثبوتِ حیات کی تصدیق کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے کمرشل بینکوں کا انتظامی کردار محدود کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ کے جاری کردہ نئے معیاری طریقہ کار کے مطابق پنشنر کی زندگی کی تصدیق سے متعلق ڈیجیٹل سگنل نادرا سے محفوظ رابطے کے ذریعے براہِ راست کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس (CGA) یا ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (MAG) کو منتقل ہوگا، جس سے معمول کی تصدیقی کارروائی میں بینک درمیان سے نکل جائیں گے۔

نئے قواعد کے تحت پنشنرز نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ یا نادرا کے مجاز ذرائع، جن میں رجسٹریشن مراکز، موبائل یونٹس، ای سہولت فرنچائزز اور مخصوص نادرا تصدیقی مراکز کے طور پر کام کرنے والی بینک شاخیں شامل ہو سکتی ہیں، کے ذریعے ثبوتِ حیات کی کارروائی مکمل کر سکیں گے۔ بینک اپنی عام بینکاری حیثیت میں پنشنرز سے جسمانی لائف سرٹیفکیٹ یا بایومیٹرک ڈیٹا طلب یا اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کریں گے۔

ایس او پیز میں سال میں دو مرتبہ تصدیق برقرار رکھی گئی ہے، تاہم اسے پہلے سے مقرر مارچ اور ستمبر کے شیڈول کے بجائے پنشنر کی سہولت کے مطابق کرنے کی گنجائش دی گئی ہے۔ خاندانی پنشن کے معاملات میں متعلقہ اقرار ناموں کی ضرورت برقرار رہے گی۔ ایسے افراد جو موبائل ایپ یا دوسرے دستیاب ذرائع استعمال نہ کر سکیں، یا جہاں ازدواجی حیثیت سے متعلق سرکاری ریکارڈ فوری طور پر دستیاب نہ ہو، ان کے لیے متعلقہ اکاؤنٹس دفتر یا پنشن سہولت مرکز کے ذریعے دستی دستاویز جمع کرانے کا راستہ بھی رکھا گیا ہے۔

نئے نظام میں بینکوں کو پنشن کی ادائیگی والے اکاؤنٹس کو اپنی طرف سے غیر فعال قرار دینے، معطل کرنے یا بند کرنے سے روکا گیا ہے۔ اگر مقررہ مدت میں درست ثبوتِ حیات موصول نہ ہو تو اکاؤنٹ کی ادائیگی کی حیثیت سی جی اے یا ایم اے جی کے نظام کے تحت معطل ہو سکتی ہے، جبکہ بعد میں درست تصدیق آنے پر بقایا رقم کی بحالی بینک کی الگ منظوری کے بغیر کی جا سکے گی۔

قواعد کے مطابق وفاقی پنشن اب براہِ راست کریڈٹ نظام کے ذریعے ادا کی جاتی ہے اور سابقہ کاغذی انتظامی طریقہ کار ختم کیا جا رہا ہے۔ پنشن اکاؤنٹ پنشنر یا اہل خاندانی پنشنر کے واحد نام پر کھولا جائے گا، البتہ متعلقہ قواعد میں واضح استثنا موجود ہو تو اس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ وزارت خزانہ کے نئے ایس او پیز کا بنیادی مقصد تصدیقی عمل کو مرکزی سرکاری ڈیٹا سے منسلک کرنا، پنشنرز کی غیر ضروری بینک حاضری کم کرنا اور اکاؤنٹ کی معطلی یا بحالی کے فیصلے کو مجاز سرکاری نظام کے تابع کرنا ہے۔