اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری اور صنعتی رہنماؤں کے ساتھ طویل مشاورتی اجلاس میں کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دوران ٹیکس قوانین کے نفاذ اور زیر التوا معاملات کی پیروی کے ذریعے 800 ارب روپے وصول کیے اور اس مقصد کے لیے نئے ٹیکس عائد نہیں کیے گئے۔ یہ رقم وزیراعظم اور سرکاری ذرائع کی جانب سے بیان کردہ حکومتی کارکردگی کا دعویٰ ہے؛ دستیاب رپورٹ میں اس رقم کا آزادانہ آڈٹ پیش نہیں کیا گیا۔
ڈان کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں برآمدات پر مبنی معاشی نمو، ٹیکس پالیسی، تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کی لاگت پر کاروباری نمائندوں سے تجاویز لی گئیں۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو برآمدکنندگان کے لیے سپر ٹیکس سے استثنا میں ممکنہ توسیع کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی۔ اس مرحلے پر یہ ایک جائزہ لینے کی ہدایت ہے، حتمی ٹیکس استثنا کا اعلان نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے نجی شعبے کی مشاورت سے ساختی اصلاحات شروع کی ہیں اور ٹیکس نفاذ بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے۔ وزیراعظم آفس کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت نے ایسے مقدمات کی پیروی کی جو کئی برس سے عدالتوں میں زیر التوا تھے، بالخصوص بالواسطہ سیلز ٹیکس سے متعلق معاملات۔ وزیراعظم نے اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا، تاہم یہ حکومتی مؤقف ہے۔
اجلاس میں کاروباری برادری سے برآمدات بڑھانے کے لیے مزید عملی تجاویز مانگی گئیں۔ وزیراعظم نے توانائی کی لاگت کم کرنے کو بھی حکومتی ترجیح قرار دیا اور کہا کہ ٹیکس، تجارت اور سرمایہ کاری کے معاملات پر نجی شعبے سے مشاورت جاری رکھی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے ضابطہ جاتی بوجھ کم کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کے جائزے اور سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ایک کھڑکی نظام کا بھی حوالہ دیا گیا۔
پاکستانی معیشت میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور برآمدات کی پائیدار توسیع مالیاتی اور بیرونی کھاتے دونوں کے لیے اہم اہداف ہیں۔ تاہم 800 ارب روپے کی وصولی کے دعوے، برآمدکنندگان کے ممکنہ سپر ٹیکس استثنا اور توانائی لاگت میں کمی کے عملی اثرات کا حتمی جائزہ متعلقہ سرکاری اعداد و شمار، بجٹ اقدامات اور بعد کی پالیسی منظوریوں کے سامنے آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔




