اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پنشن کی ادائیگی اور پنشنرز کی شناخت و ثبوتِ حیات کی تصدیق کے لیے نئے معیاری طریقہ کار جاری کیے ہیں جن کے تحت کمرشل بینک پنشن اکاؤنٹس کو اپنی صوابدید پر معطل یا بند نہیں کر سکیں گے۔ نئے نظام میں نادرا کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اور ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل کے ساتھ محفوظ ڈیجیٹل رابطے کے ذریعے منسلک کیا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد پنشنرز کو بایومیٹرک تصدیق اور ثبوتِ حیات کے عمل میں سہولت دینا اور کمرشل بینکوں کے انتظامی کردار کو کم کرنا ہے۔ نئے ایس او پیز نے سابقہ طریقہ کار کی جگہ لے لی ہے اور وفاقی پنشن کی ادائیگی براہ راست کریڈٹ نظام کے ذریعے جاری رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
نئے قواعد کے تحت پنشن ادا کرنے والے اکاؤنٹس کو محض غیر فعالیت کی بنیاد پر ڈورمنٹ قرار نہیں دیا جائے گا۔ اگر کوئی اکاؤنٹ پہلے ڈورمنٹ قرار دیا جا چکا ہو تو نادرا کی بایومیٹرک تصدیق یا سرکاری پنشن کریڈٹ کی تصدیق کے ذریعے اسے فعال کیا جا سکے گا۔ اس انتظام کا مقصد یہ ہے کہ پنشنر کو بینک کی الگ منظوری کے مرحلے پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
سسٹم تازہ ترین کامیاب تصدیق کی بنیاد پر اگلی تصدیق کی تاریخ خود طے کرے گا۔ اگر مسلسل چھ ماہ تک کوئی درست ثبوتِ حیات یا متعلقہ ڈیجیٹل سگنل موصول نہ ہو تو معاملہ سرکاری اکاؤنٹنگ نظام میں معطلی کی حالت میں جا سکتا ہے۔ بعد میں درست تصدیق موصول ہونے پر فعال حیثیت بحال اور جمع شدہ واجبات جاری کیے جا سکیں گے، جس کے لیے بینک کی الگ منظوری درکار نہیں ہوگی۔
ایس او پیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پنشن اکاؤنٹ پنشنر یا اہل فیملی پنشنر کے واحد نام پر منافع و نقصان شراکت یا کرنٹ اکاؤنٹ کی صورت میں کھولا جائے گا۔ عمومی طور پر مشترکہ اکاؤنٹس کی اجازت نہیں ہوگی، سوائے ان صورتوں کے جہاں متعلقہ وفاقی قواعد واضح استثنا فراہم کرتے ہوں۔ ایسے اکاؤنٹس کو سروس چارجز سے بھی مستثنیٰ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اگر سرکاری اکاؤنٹنگ ادارہ کسی پنشن اکاؤنٹ کو معطل قرار دے اور رقم وصول نہ ہو تو بینک رقم حکومت کو صرف باقاعدہ سرکاری نوٹس ملنے پر واپس کرے گا۔ مجموعی طور پر نئے قواعد پنشن کی تصدیق اور اکاؤنٹ انتظام میں فیصلہ کن اختیار کو بینکوں سے نکال کر نادرا اور وفاقی اکاؤنٹنگ نظام کے مربوط ڈھانچے میں منتقل کرتے ہیں۔




