کراچی: سندھ میں واقع سکھ پور-II بلاک کے لندالی-1 دریافت شدہ گیس کنویں سے تجارتی پیداوار شروع ہو گئی ہے اور پیدا ہونے والی گیس سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کو فراہم کی جا رہی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور ماری انرجیز نے بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو الگ الگ نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔

او جی ڈی سی ایل نے بتایا کہ لندالی-1 سے پہلی گیس 6 ستمبر 2026 کو حاصل ہوئی۔ کنواں اس وقت تقریباً 10 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس پیدا کر رہا ہے، جبکہ ویل ہیڈ پریشر 2,000 پاؤنڈ فی مربع انچ بتایا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ گیس سوئی سدرن گیس کمپنی کے نظام میں شامل کی جا رہی ہے، جس سے ملک کی مقامی گیس فراہمی میں اضافی مقدار شامل ہوگی۔

سکھ پور-II بلاک میں پرائم گلوبل انرجیز لمیٹڈ آپریٹر ہے اور اس کا ورکنگ انٹرسٹ 25 فیصد ہے۔ او جی ڈی سی ایل اور ماری انرجیز دونوں کا حصہ 30، 30 فیصد ہے جبکہ ترک پٹرولیم اوورسیز کمپنی لمیٹڈ 15 فیصد ورکنگ انٹرسٹ رکھتی ہے۔ یہ بلاک سندھ کے کیرتھر فولڈ بیلٹ بیسن میں واقع ہے اور کراچی سے تقریباً 270 کلومیٹر شمال میں بتایا گیا ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے مطابق سکھ پور-II بلاک کے لیے پٹرولیم کنسیشن ایگریمنٹ اور ایکسپلوریشن لائسنس 2 دسمبر 2025 سے مؤثر ہوا تھا۔ لندالی-1 کنواں سابقہ جوائنٹ وینچر انتظام کے تحت ڈرل کیا گیا تھا، تاہم اسے موجودہ شراکتی ڈھانچے کے تحت پیداوار میں لایا گیا ہے۔ کمپنیوں نے اس آغاز کو مقامی توانائی وسائل میں اضافے کے طور پر پیش کیا ہے۔

پاکستان میں قدرتی گیس کی مقامی پیداوار صنعتی، بجلی، گھریلو اور تجارتی ضروریات کے لیے اہم ہے، اس لیے نئے کنوؤں سے پیداوار شروع ہونا درآمدی توانائی پر دباؤ کم کرنے کی کوششوں میں معاون ہو سکتا ہے۔ تاہم دستیاب اعلامیوں میں لندالی-1 کی موجودہ پیداوار 10 ایم ایم ایس سی ایف ڈی بتائی گئی ہے؛ مستقبل میں پیداوار میں اضافے، ذخائر کے مجموعی حجم یا طویل مدتی پیداوار کے بارے میں کوئی نئی حتمی مقدار جاری نہیں کی گئی۔