پاکستان ریلوے نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی معاونت سے مین لائن ون (ایم ایل ون) کے کراچی سے روہڑی حصے کی اپ گریڈیشن کے لیے دوسری پری مارکیٹ مشاورت مکمل کر لی ہے۔ لاہور میں ہونے والی اس مشاورت میں ملکی اور بین الاقوامی ٹھیکیداروں، کنسلٹنٹس، آلات فراہم کرنے والی کمپنیوں اور مینوفیکچررز سمیت 134 شرکا نے حصہ لیا۔ منصوبے کا مقصد ملک کے مصروف ترین ریلوے کوریڈور کے بنیادی ڈھانچے، حفاظت اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق شرکا نے منصوبے کے مختلف تکنیکی اور تجارتی پہلوؤں پر تجاویز دیں۔ ان آرا کو خریداری کی حکمت عملی اور منصوبے کی تیاری کے عمل میں استعمال کیے جانے کی توقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے ساتھ پیشگی رابطے سے مسابقتی اور شفاف پروکیورمنٹ میں مدد مل سکتی ہے، تاہم حتمی ٹینڈر، مالی انتظام اور تعمیراتی شیڈول متعلقہ منظوریوں اور معاہدوں سے مشروط رہیں گے۔
ایم ایل ون کے پہلے مرحلے کی تخمینی لاگت تقریباً ڈھائی ارب ڈالر بتائی گئی ہے اور سول کام جنوری 2027 میں شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ پہلا مرحلہ تقریباً 480 کلومیٹر طویل کراچی-روہڑی/سکھر سیکشن پر مشتمل ہے۔ منصوبے میں نئی اپ اور ڈاؤن پٹریاں بچھانے، دونوں اطراف باڑ لگانے اور غیر مجاز افراد، جانوروں اور گاڑیوں کی پٹری تک رسائی محدود کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس کوریڈور سے پاکستان ریلوے کے مسافر ٹریفک کا تقریباً 76 فیصد اور مال بردار ٹریفک کا 98 فیصد گزرتا ہے۔ منصوبے کے دائرہ کار میں کیماڑی-لانڈھی-حیدرآباد، حیدرآباد-نوابشاہ اور نوابشاہ-روہڑی حصوں پر ٹریک کی تعمیر نو، محدود ری الائنمنٹ، پلوں اور کلورٹس کی بہتری، اسٹیشنوں، فریٹ یارڈز اور متعلقہ عمارتوں کے کام شامل کیے گئے ہیں۔ سگنلنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن نظام کی اپ گریڈیشن اور والٹن اکیڈمی کی بہتری بھی مجوزہ کاموں کا حصہ ہے۔
منصوبے کے لیے اے ڈی بی سے مالی معاونت متوقع ہے جبکہ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک، عالمی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور دیگر ممکنہ شراکت داروں سے مشترکہ فنانسنگ کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔ موجودہ مشاورتی مرحلہ تعمیراتی معاہدہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی صلاحیت، دلچسپی اور پروکیورمنٹ ڈیزائن جانچنے کا عمل ہے۔ حتمی لاگت، فنانسنگ اور ٹائم لائن منصوبے کی آئندہ منظوریوں اور بولی کے نتائج کے بعد واضح ہوں گے۔




