وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نیا اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 5 روپے 58 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا، جس کے بعد اس کی نئی خوردہ قیمت 364 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 18 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور نئی قیمت 385 روپے 95 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق بدھ 9 ستمبر سے کیا گیا ہے۔

حکومت اس وقت پیٹرول پر مجموعی طور پر تقریباً 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں حالیہ مہینوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں۔ چونکہ ملک اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے بین الاقوامی خام تیل، فریٹ، شرح مبادلہ اور ٹیکس پالیسی مقامی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اپریل کے اوائل میں 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچی تھی۔ اس کے بعد عالمی اور علاقائی حالات میں تبدیلی کے ساتھ قیمت میں کمی ہوئی، تاہم موجودہ سطح اب بھی سال کے ابتدائی مہینوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بلند ہے۔ پیٹرول کی قیمت بھی اپریل میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک گئی تھی۔

پیٹرولیم کے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں تیز رفتار تبدیلیوں کے باعث ملک میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس پالیسی کے تحت قیمتوں میں تبدیلی کا وقفہ پہلے کے روایتی پندرہ روزہ نظام سے مختلف ہو گیا ہے اور صارفین کو عالمی قیمتوں کی نقل و حرکت کا اثر نسبتاً جلد منتقل ہو سکتا ہے۔

پیٹرول کی قیمت میں اضافہ موٹر سائیکل اور کار استعمال کرنے والے گھرانوں کے براہ راست اخراجات بڑھاتا ہے، جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری، زرعی مشینری اور بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ کی لاگت متاثر ہو سکتی ہے۔ نئی قیمتوں کے معاشی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ عالمی تیل کی قیمتیں، علاقائی جنگی صورتحال اور روپے کی قدر آئندہ دنوں میں کس سمت جاتی ہیں۔