اردو ہیڈلائنز ڈیسک — فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور بولی کے مرحلے میں حصہ لینے کے لیے 10 اداروں کو اہل قرار دیا گیا ہے۔ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکام نے نجکاری کے لیے موصول ہونے والی دلچسپی اور اہلیت سے متعلق دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد ان اداروں کو اگلے مرحلے کے لیے موزوں قرار دیا ہے۔

فیسکو بجلی کی تقسیم کے شعبے میں کام کرنے والی بڑی سرکاری کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی نجکاری حکومت کے وسیع تر نجکاری پروگرام کا حصہ ہے۔ اس عمل کا مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت بڑھانا، انتظامی کارکردگی بہتر بنانا اور سرکاری شعبے پر مالی دباؤ میں کمی لانا بتایا جاتا ہے۔ بولی کے لیے اہل قرار پانے والے اداروں کی موجودگی سے نجکاری کے عمل میں مسابقت بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ابتدائی اہلیت کے مرحلے کے بعد منتخب ادارے مقررہ طریقہ کار کے مطابق مزید معلومات، مالی اور تکنیکی تفصیلات کا جائزہ لے سکیں گے اور آئندہ مرحلے میں اپنی بولیاں پیش کرنے کے اہل ہوں گے۔ حتمی فیصلہ بولیوں، مقررہ شرائط اور نجکاری کے قواعد کے مطابق کیا جائے گا۔ اس مرحلے پر کسی ایک ادارے کو فیسکو کا خریدار قرار نہیں دیا گیا بلکہ 10 اداروں کی اہلیت صرف آئندہ بولی کے عمل میں شرکت سے متعلق ہے۔

پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی کارکردگی، لائن لاسز، وصولیوں اور انتظامی مسائل طویل عرصے سے پالیسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ حکومت مختلف اوقات میں شعبہ توانائی میں اصلاحات، نجی سرمایہ کاری اور ادارہ جاتی بہتری کے اقدامات کا اعلان کرتی رہی ہے۔ فیسکو کی نجکاری اسی اصلاحاتی عمل کے ایک اہم حصے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

بولی کے مرحلے میں متعدد اداروں کی شرکت سے حکومت کو مختلف مالی اور تکنیکی تجاویز کا تقابلی جائزہ لینے کا موقع ملے گا۔ تاہم نجکاری کی حتمی تکمیل آئندہ مراحل، قانونی تقاضوں، بولیوں کی جانچ اور متعلقہ منظوریوں سے مشروط ہوگی۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو نجکاری کے عمل کا اہم مگر ابتدائی مرحلہ سمجھا جا رہا ہے، جبکہ حتمی خریدار اور مالی شرائط کا تعین بولی کے باقاعدہ عمل مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔