اسلام آباد: فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کے ایگزیکٹو بورڈ نے مارگلہ آرچرڈ پارک روڈ ہاؤسنگ اسکیم کے ترقیاتی مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے سہ فریقی معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ فیصلہ اتھارٹی کے 43ویں ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں کیا گیا، جو وزارتِ ہاؤسنگ و ورکس میں منعقد ہوا۔ منصوبہ ایف جی ای ایچ اے، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA) اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اشتراک سے تیار کیا جانا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق بورڈ نے تینوں اداروں کے درمیان ترقیاتی معاہدے کی منظوری دی ہے اور معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب 26 ستمبر کو منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی قانونی جانچ وزارتِ قانون سے بھی مکمل کرائی جا چکی ہے۔ دستخط کے بعد منصوبے پر ترقیاتی کام باقاعدہ طور پر شروع کرنے اور اسے تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت رہائشی پلاٹس اور بنیادی شہری سہولیات کے ساتھ تجارتی علاقوں، پارکس، تعلیمی اداروں، مساجد اور دیگر عوامی سہولتوں کے لیے جگہ مختص کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ایف جی ای ایچ اے نے یہ بھی کہا ہے کہ پہلے سے پلاٹ حاصل کرنے والے وفاقی ملازمین اور دیگر الاٹیز کے حقوق محفوظ رہیں گے۔ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کیپٹن (ر) ظفر اقبال نے اجلاس کے بعد کہا کہ ادارہ ماضی کے انتظامی مسائل پر قابو پانے اور منصوبے کو شفاف انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد اور اس کے نواح میں سرکاری ملازمین کے لیے رہائشی منصوبوں میں تاخیر، زمین کے معاملات، ترقیاتی کاموں کی رفتار اور انفراسٹرکچر کی تکمیل طویل عرصے سے اہم مسائل رہے ہیں۔ نئی منظوری کے بعد اصل توجہ اس بات پر ہوگی کہ سہ فریقی معاہدے پر مقررہ تاریخ کو دستخط ہوتے ہیں یا نہیں، زمین اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق عملی ذمہ داریاں کس ادارے کے سپرد ہوتی ہیں اور تعمیراتی کام کا واضح شیڈول کب جاری کیا جاتا ہے۔

سرکاری بیان میں منصوبے کی تکمیل کی کوئی حتمی تاریخ یا مجموعی لاگت نہیں بتائی گئی، اس لیے اس مرحلے پر اسے مکمل تعمیراتی آغاز کے بجائے ترقیاتی معاہدے کی منظوری اور آئندہ عمل درآمد کی بنیاد قرار دینا زیادہ درست ہے۔ منصوبے کی پیش رفت کا اندازہ بعد کے ٹینڈرز، سائٹ ورک، انفراسٹرکچر کی تعمیر اور الاٹیز کو دی جانے والی باقاعدہ اپ ڈیٹس سے ہوگا۔