اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسلام آباد زون نے وفاقی دارالحکومت میں جعلی اپوسٹیل دستاویزات سے متعلق ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل نے قابلِ اعتماد معلومات کی بنیاد پر آبپارہ کے ایف اینڈ ایف پلازہ کے تہہ خانے میں قائم متعدد کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر پر چھاپے مارے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن سے جعلی اپوسٹیل اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے مبینہ سلسلے کی نشاندہی ہوئی۔

اپوسٹیل کسی دستاویز کی بین الاقوامی سطح پر تصدیق کے لیے استعمال ہونے والا طریقہ ہے، اس لیے اس نظام میں جعل سازی بیرون ملک تعلیم، ملازمت، امیگریشن اور دیگر قانونی امور کے لیے استعمال ہونے والی دستاویزات کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایف آئی اے کی کارروائی اسی تناظر میں اہم ہے کیونکہ جعلی تصدیقی نشانات یا مہریں استعمال ہونے کی صورت میں اصل دستاویز رکھنے والے افراد اور متعلقہ سرکاری نظام دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کارروائی ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے کی۔ حکام نے معاملے کو ایک مبینہ منظم نیٹ ورک سے جوڑا ہے، تاہم تحقیقات جاری ہونے کے باعث کسی فرد کے خلاف الزام کو حتمی جرم یا عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ وزارت خارجہ کے بعض اہلکاروں کے ممکنہ کردار کا ذکر بھی تحقیقات کے تناظر میں سامنے آیا ہے؛ اس مرحلے پر ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش اور بعد کی قانونی کارروائی سے ہوگا۔

ایف آئی اے کی جانب سے چھاپوں کا مقصد مبینہ جعلی مواد کے ماخذ، اس کی تیاری کے طریقہ کار، تقسیم کے راستوں اور ممکنہ سہولت کاروں کا سراغ لگانا ہے۔ اس نوعیت کی تحقیقات میں ضبط شدہ دستاویزات، ڈیجیٹل ریکارڈ، مہروں اور اسٹیکرز کی فرانزک جانچ اہم ہو سکتی ہے۔ دستیاب معلومات میں کسی حتمی عدالتی فیصلے یا تمام مبینہ کرداروں کے خلاف جرم ثابت ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یہ کارروائی سرکاری دستاویزات کی تصدیق کے نظام کی نگرانی اور اس کے غلط استعمال کی روک تھام کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتی ہے۔ حکام کی مزید تفتیش سے یہ واضح ہوگا کہ مبینہ جعل سازی کتنے عرصے سے جاری تھی، کتنی دستاویزات متاثر ہوئیں اور آیا اس معاملے میں مزید گرفتاریاں یا مقدمات سامنے آتے ہیں۔