اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے جعلی اپوسٹیل اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری، فراہمی اور استعمال میں ملوث ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 22 افراد کو مقدمے میں نامزد کیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق نامزد افراد میں وزارت خارجہ کے چھ اہلکار اور 16 نجی افراد شامل ہیں۔ یہ تمام الزامات تفتیش کے مرحلے میں ہیں اور کسی ملزم کے خلاف حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
ایف آئی اے اسلام آباد زون کے مطابق معتبر معلومات کی بنیاد پر آبپارہ کے ایف اینڈ ایف پلازہ کے تہہ خانے میں قائم متعدد کنسلٹنسی اور کورئیر دفاتر پر چھاپے مارے گئے۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات کے دوران ایسا نیٹ ورک سامنے آیا جو جعلی اپوسٹیل اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور متعلقہ دستاویزات کی تیاری اور استعمال میں مبینہ طور پر ملوث تھا۔
مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468، 471 اور 109 کے ساتھ انسداد بدعنوانی قانون 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق مختلف کنسلٹنسی اور کورئیر اداروں کے مالکان اور ملازمین بھی تفتیش کے دائرے میں ہیں۔ وزارت خارجہ کے جن چھ اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے ان میں تصدیق اور اپوسٹیل امور سے متعلق اہلکار بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
تحقیقاتی ادارے کا الزام ہے کہ بعض ملزمان درخواست گزاروں سے اپوسٹیل اور تصدیقی خدمات جلد مکمل کرانے کے نام پر بڑی رقوم وصول کرتے اور مبینہ طور پر وزارت خارجہ کے اہلکاروں کو رشوت دیتے تھے۔ ایف آئی اے نے یہ بھی کہا کہ جعلی اپوسٹیل اسٹیکرز ملک کے مختلف مقامات پر گردش کر رہے تھے، جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ ان دعوؤں کی قانونی حیثیت اب تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے طے ہوگی۔
عدالت نے گرفتار ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا ہے، جبکہ تفتیش انسپکٹر ارسلان مسعود خان کر رہے ہیں۔ اپوسٹیل دستاویزات بیرون ملک سرکاری اور قانونی استعمال کے لیے دستاویز کی تصدیق سے متعلق ہوتی ہیں، اس لیے جعلی مہروں یا اسٹیکرز کا معاملہ امیگریشن، تعلیم، کاروبار اور دیگر بین الاقوامی دستاویزی معاملات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ایف آئی اے نے فی الحال مقدمے اور ابتدائی تفتیش کی تفصیلات جاری کی ہیں؛ ذمہ داری کا حتمی تعین عدالت کرے گی۔
