اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے ایک افسر کو افغان شہریوں کے منسوخ قومی شناختی کارڈ مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے بحال کرنے کے کیس میں گرفتار کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایف آئی اے حکام نے گرفتار شخص کی شناخت نادرا کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر آفتاب کے نام سے کی اور اس پر بھاری رقم وصول کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے 51 افغان شہریوں کے منسوخ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ بحال کیے یا ان کی بحالی کی کوشش کی اور اس عمل کے بدلے مجموعی طور پر تقریباً 12 کروڑ روپے وصول کیے۔ یہ تمام تفصیلات تحقیقاتی ادارے کے الزام پر مبنی ہیں؛ ملزم کے خلاف الزامات ابھی کسی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے اور اس کا قانونی دفاع سامنے آنا باقی ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کارروائی ایف آئی اے کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ نے کی۔ گرفتاری کے بعد مبینہ ملزم کے گھر پر بھی چھاپا مارا گیا، جہاں سے ایف آئی اے نے 19 لاکھ روپے نقد برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ یہ رقم کس ذریعے سے حاصل ہوئی اور آیا اسے زیرِ تفتیش لین دین سے براہِ راست جوڑا جا سکا ہے، اس بارے میں رپورٹ میں عدالتی نتیجہ یا مکمل فرانزک تفصیل موجود نہیں۔

پاکستان میں قومی شناختی دستاویزات کا اجرا اور منسوخی حساس انتظامی اور سکیورٹی معاملہ ہے، بالخصوص غیر ملکی شہریوں سے متعلق کیسز میں۔ نادرا کے ریکارڈ میں کسی شناختی کارڈ کی بحالی کے لیے مقررہ قانونی اور تصدیقی طریقہ کار ہوتا ہے۔ ایف آئی اے کا مقدمہ اسی بنیادی الزام کے گرد گھومتا ہے کہ سرکاری اختیار کو مبینہ طور پر غیر قانونی مالی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔

کیس میں 51 افغان شہریوں کے کارڈز کا ذکر سامنے آیا ہے، لیکن ہر فرد کے دستاویزی ریکارڈ، پاکستانی شہریت سے متعلق دعوے یا کارڈ منسوخی کی اصل بنیاد کی الگ تفصیل شائع نہیں ہوئی۔ اس لیے تمام افراد کے قانونی اسٹیٹس کے بارے میں عمومی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ تفتیش میں یہ طے ہونا باقی ہے کہ کن ریکارڈز میں تبدیلی ہوئی، کس مرحلے پر منظوری دی گئی اور آیا مزید افراد یا اہلکار اس معاملے میں شامل تھے۔

ایف آئی اے کی جانب سے گرفتاری کسی جرم کے ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ آئندہ مرحلے میں تفتیش، ریمانڈ، ممکنہ چالان اور عدالتی کارروائی سے یہ واضح ہوگا کہ ادارے کے پاس مالی لین دین، ڈیجیٹل ریکارڈ اور شناختی کارڈ بحالی کے عمل سے متعلق کیا ثبوت موجود ہیں۔ اسی طرح ملزم کو بھی قانون کے تحت اپنے دفاع اور الزامات کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ ایف آئی اے نے نادرا کے ایک افسر کو حراست میں لیا ہے اور اس کے خلاف افغان شہریوں کے شناختی کارڈ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بحال کرنے اور رقم وصول کرنے کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔