لوئر دیر کی تحصیل ادینزئی کے متعدد پہاڑی دیہات میں تیز بخار، سانس لینے میں دشواری اور دیگر طبی پیچیدگیوں کی اطلاعات کے بعد صحت حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ خانپور، اسبنڑ، برامیکے، بوچکے، شادم اور شورشنگ سمیت علاقوں کے رہائشیوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں چھ بچوں اور ایک خاتون سمیت سات افراد کی اموات ہوئی ہیں اور متعدد مریضوں کو چکدرہ، سوات اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
تاہم ضلعی ہیلتھ افسر ڈاکٹر نیاز محمد آفریدی نے واضح کیا ہے کہ ابتدائی معلومات یہ ثابت نہیں کرتیں کہ رپورٹ کی گئی تمام اموات کسی ایک وبا یا ایک ہی بیماری سے ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق برامیکے میں فوت ہونے والے دو بچے قبل از وقت پیدا ہوئے تھے، جبکہ بوچکے کے دو نوجوان پشاور میں میننجائٹس کے علاج کے لیے زیر علاج ہیں۔ رپورٹ میں شامل ایک خاتون پہلے سے تپ دق میں مبتلا تھیں۔
ہیلتھ افسر کے مطابق بوچکے سے ایک شدید بخاری بیماری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے بارے میں ابتدائی شبہ ہے کہ یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والی زونوٹک بیماری ہو سکتی ہے۔ طبی ٹیموں نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرکے خون اور دیگر ضروری نمونے لیبارٹری تجزیے کے لیے جمع کیے ہیں۔ احتیاطی طور پر بوچکے اور برامیکے میں ڈینگی اور ملیریا کے خلاف اسپرے بھی کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر بشارت احمد کی ہدایت پر صحت، لائیوسٹاک اور پبلک ہیلتھ محکموں کے اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس کی نگرانی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریلیف سید اکرم شاہ کر رہے ہیں۔ ٹیم متاثرہ دیہات کا دوبارہ دورہ، مقامی افراد اور عمائدین سے معلومات اکٹھی اور طبی و ماحولیاتی عوامل کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گی۔
اس مرحلے پر بیماری کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں ہوئی، اس لیے اسے کسی مخصوص وائرس، بیکٹیریا یا وبائی مرض سے منسوب کرنا قبل از وقت ہوگا۔ سات اموات کی تعداد مقامی رہائشیوں کے بیان پر مبنی ہے جبکہ محکمہ صحت ہر کیس کی الگ طبی وجہ جانچ رہا ہے۔ لیبارٹری نتائج اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ آیا واقعات میں کوئی مشترکہ بیماری موجود ہے یا مختلف طبی وجوہات ایک ہی عرصے میں سامنے آئی ہیں۔

