پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پار کشیدگی میں یکم اکتوبر کو ایک نیا اضافہ سامنے آیا، جب پاکستان نے افغانستان میں دو مقامات پر فضائی کارروائی کی تصدیق کی۔ وفاقی وزارتِ اطلاعات کے مطابق یہ حملے قابلِ اعتماد انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایسے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کیے گئے جنہیں پاکستان دہشت گرد تنظیموں سے منسلک قرار دیتا ہے۔ وزارت نے کہا کہ اہداف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ وہاں موجود اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ ہوا۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے مختلف نوعیت کا بیان جاری کیا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں نے کنڑ اور ہلمند صوبوں میں تین گھروں کو نشانہ بنایا، جن کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ افغان حکام نے کہا کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور کارروائی کو افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران شہری نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط کی گئی۔
رائٹرز نے واضح کیا ہے کہ دونوں فریقوں کے جانی نقصان اور اہداف سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے ہلاکتوں کی تعداد، مارے جانے والوں کی شناخت اور حملوں کے مکمل اثرات کو فریقین کے دعووں کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات پہلے ہی خراب تھے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر موجود مسلح گروہ پاکستان میں حملوں کے لیے پناہ گاہیں استعمال کرتے ہیں، جبکہ کابل اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور پاکستانی سرزمین پر شدت پسندی کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتا ہے۔ گزشتہ ماہ شمال مغربی پاکستان میں ایک پولیس تنصیب پر مہلک حملے کے بعد سرحدی کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوا تھا، اور پاکستان نے اس کے بعد افغانستان میں متعدد کارروائیوں کی اطلاع دی۔ افغان حکام ان کارروائیوں میں شہری نقصان کا الزام لگاتے رہے ہیں۔
پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق تازہ کارروائی انسدادِ دہشت گردی کی جاری مہم کا حصہ ہے اور حکومت شہریوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ہے۔ تاہم موجودہ صورتِ حال میں دونوں حکومتوں کے متضاد بیانات اور آزادانہ تصدیق کی کمی کے باعث زمینی حقائق سے متعلق کئی سوالات بدستور موجود ہیں۔

