اسلام آباد: پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ پاکستانی فورسز نے یکم اکتوبر کو افغانستان میں دو مقامات پر دہشت گرد تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کیں۔ وزارت کے مطابق یہ کارروائیاں جاری انسدادِ دہشت گردی مہم ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کے تسلسل میں کی گئیں اور اہداف کا انتخاب خفیہ معلومات کی بنیاد پر کیا گیا۔
وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائیوں میں ان گروہوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جنہیں ریاستی بیانات میں ’’فتنہ الخوارج‘‘ اور ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کہا جاتا ہے۔ پاکستانی حکام ’’فتنہ الخوارج‘‘ کی اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال کرتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں سرگرم بعض مسلح گروہوں کو دوسرے نام سے بیان کیا جاتا ہے۔ وزارت نے دعویٰ کیا کہ دونوں مقامات پر اہداف تباہ ہوئے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ وہاں موجود اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ ہوا۔ اس تعداد کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کارروائی کے دوران شہری نقصان سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک نیٹ ورکس پاکستانی سرزمین پر حملوں میں ملوث ہیں اور اسلام آباد کئی بار کابل سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت ماضی میں اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دیتی ہے۔
دونوں ملکوں کے تعلقات حالیہ مہینوں میں سرحد پار حملوں، ڈرون واقعات اور جوابی کارروائیوں کے باعث مزید کشیدہ ہوئے ہیں۔ ڈان کے مطابق ستمبر میں بھی پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا اعلان کیا تھا، جبکہ بعد میں سرحدی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر سفارتی احتجاج بھی کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت مانیٹرنگ رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی اور اس کے علاقائی شدت پسند گروہوں سے روابط پر تشویش ظاہر کی جا چکی ہے۔
تازہ کارروائی کے بعد پاکستان نے واضح کیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی آپریشن جاری رہے گا اور شہریوں کی سلامتی کو ترجیح دی جائے گی۔ دوسری جانب اس واقعے کے مکمل اثرات، ہلاکتوں کی حتمی تعداد اور افغان حکام کے تفصیلی ردعمل سے متعلق مزید آزاد تصدیق درکار ہے۔

