کراچی: یونیورسٹی روڈ پر گلشنِ اقبال کے علاقے میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے زیرِ تعمیر پل کا ایک ڈھانچہ گرنے سے ایک سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق حادثہ بیت المکرم مسجد کے قریب پیش آیا اور جاں بحق شخص تعمیراتی مقام پر سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو اطلاع ملنے کے بعد امدادی ٹیم فوری طور پر جائے حادثہ روانہ کی گئی۔ ابتدائی طور پر ڈھانچہ گرنے کی تکنیکی وجہ یا تعمیراتی ذمہ داری سے متعلق کوئی حتمی سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ واقعے میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت اور ممکنہ دیگر زخمیوں کے بارے میں بھی ابتدائی خبر میں مزید تفصیل موجود نہیں تھی۔

یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب کراچی کے ریڈ لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے پر کئی مقامات پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ منصوبہ تقریباً 27 کلومیٹر طویل روٹ پر مالیر ہالٹ سے نمائش تک یونیورسٹی روڈ کے راستے تیار کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کا اعلان 2017 میں ہوا تھا اور اس کی ابتدائی لاگت تقریباً 79 ارب روپے بتائی گئی تھی۔ عملی تعمیر 2022 میں شروع ہوئی اور پہلے اسے 2023 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا، تاہم بعد میں مدت 2024 اور پھر 2026 کے آخر تک بڑھائی گئی۔

منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کے لیے حکام مختلف وجوہات بیان کرتے رہے ہیں، جن میں ٹھیکیداروں سے تنازعات، حفاظتی وجوہات کی بنا پر کام رکنا، روپے کی قدر میں کمی کے باعث تعمیراتی اخراجات بڑھنا، زمین کے حصول میں مشکلات، یوٹیلیٹی لائنوں کی منتقلی اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطے کے مسائل شامل ہیں۔ نومبر 2025 میں وزیرِ اعلیٰ کی مداخلت کے بعد بعض رکاوٹیں دور ہونے پر تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کی گئی تھیں۔

یونیورسٹی روڈ کراچی کی مصروف ترین شاہراہوں میں شامل ہے اور ریڈ لائن کی تعمیر کے باعث روزانہ بڑی تعداد میں مسافروں کو ٹریفک کی سست روی اور متبادل راستوں کا سامنا رہتا ہے۔ سندھ حکومت نے حالیہ ہفتوں میں کہا تھا کہ زیرِ تعمیر حصوں کو تیزی سے مکمل کرنے اور شاہراہ پر ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تازہ حادثے کے بعد تعمیراتی مقام کی حفاظت، بھاری ڈھانچوں کی تنصیب اور مزدوروں و سیکیورٹی عملے کے لیے حفاظتی انتظامات سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔ تاہم کسی ادارے یا فرد کی ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش اور تکنیکی معائنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔