کوئٹہ: سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع کچھی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشن کے دوران چھ مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے حوالے سے شائع ہونے والی اطلاعات کے مطابق کارروائی کچھی کے سنی علاقے میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مخصوص اہداف کے خلاف کواڈ کاپٹرز بھی استعمال کیے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مارے جانے والے افراد کا تعلق ان گروہوں سے تھا جنہیں ریاستی بیانات میں ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کہا جاتا ہے۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے یہ اصطلاح بلوچستان میں سرگرم بعض کالعدم مسلح تنظیموں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان کے بیرونی روابط کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔ تازہ آپریشن میں ہلاک افراد کی شناخت، ان کے مخصوص تنظیمی تعلق اور کارروائی کے مکمل مقام سے متعلق تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق آپریشن کے بعد جائے وقوع سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ تاہم ہلاکتوں کی تعداد، برآمد شدہ مواد اور آپریشن کے دیگر نتائج کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق دستیاب نہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات ہی ابتدائی رپورٹ کی بنیاد ہیں، اس لیے کسی فرد یا گروہ سے متعلق حتمی ذمہ داری یا تعلق مزید سرکاری شواہد سے واضح ہوگا۔

بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران شدت پسند حملوں اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ ڈان کے مطابق دو روز قبل چاغی میں بھی دو مبینہ دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے 27 ستمبر کو بتایا تھا کہ شابان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں 96 گھنٹوں کے دوران 71 سے زیادہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ اس سے قبل آواران، مستونگ، نوکچہ، چاغی، زیارت کراس اور پشین میں بھی الگ الگ کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی ماہانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد جولائی کے 83 واقعات سے بڑھ کر اگست میں 89 ہوئی، یعنی تقریباً سات فیصد اضافہ۔ رپورٹ میں صوبے کو دہشت گردی سے شدید متاثرہ علاقوں میں شمار کیا گیا تھا۔ اس پس منظر میں سیکیورٹی فورسز نے صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کیے ہیں۔

کچھی کی تازہ کارروائی سے متعلق سرکاری تفصیلات ابھی محدود ہیں۔ مزید معلومات سامنے آنے پر ہلاک افراد کی شناخت، آپریشن کے دورانیے، برآمد شدہ اسلحے اور ممکنہ فالو اپ کارروائیوں کی نوعیت واضح ہو سکے گی۔