زیورخ: عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے اسپین کی قومی ٹیم کے ایک میچ میں مسلم مخالف اور امتیازی نعروں کے معاملے پر رائل اسپینش فٹبال فیڈریشن کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے اگلے ہوم دوستانہ میچ میں اسٹیڈیم کی کم از کم 15 فیصد نشستیں بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بندش کا اطلاق بالخصوص گول کے پیچھے واقع اسٹینڈز پر کیا جائے گا۔
فیفا نے اسپینش فیڈریشن پر 20 ہزار امریکی ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا۔ معاملہ 31 مارچ کو بارسلونا کے آر سی ڈی ای اسٹیڈیم میں اسپین اور مصر کے درمیان بغیر گول کے برابر رہنے والے دوستانہ میچ سے متعلق ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلے ہاف اور دوسرے ہاف کے آغاز کے کچھ دیر بعد اسپین کے بعض تماشائیوں کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے نعرے لگائے گئے، جس کے بعد اسٹیڈیم کی اسکرین پر امتیازی سلوک کے خلاف انتباہ دکھایا گیا اور اعلان کے ذریعے شائقین کو نعرے روکنے کے لیے کہا گیا۔
فیفا نے بعد میں اسلاموفوبک اور غیر ملکیوں کے خلاف امتیازی رویے کے الزامات پر تادیبی کارروائی شروع کی۔ اسپینش فٹبال فیڈریشن نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ نعرہ امتیازی نوعیت کا نہیں تھا اور لفظ ’مسلم‘ بذات خود توہین آمیز نہیں، تاہم فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے یہ دلیل قبول نہیں کی۔ کمیٹی کے مطابق کوئی لفظ الگ سے غیر توہین آمیز ہوسکتا ہے لیکن مخصوص سیاق میں مذہبی شناخت کا مذاق اڑانے یا اسے کمتر دکھانے کے لیے استعمال ہو تو اس کا امتیازی اثر پیدا ہوسکتا ہے۔
فیفا نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسپینش حکام نے میچ کے دوران احتیاطی اقدامات کیے، میچ آفیشلز سے تعاون کیا، واقعے کی عوامی مذمت کی اور ملوث افراد کی شناخت کی کوشش کی۔ اسپین کے کوچ لوئس ڈی لا فوینتے نے نعروں کو ناقابل قبول قرار دیا، جبکہ مسلمان ہسپانوی ونگر لامین یامال نے مذہب کو طعنہ بنانے کو توہین آمیز اور نسل پرستانہ رویہ قرار دیا۔ مصری فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی ان نعروں کی مذمت کی تھی۔
فیفا کے فیصلے کے تحت، پیشگی منظوری کی صورت میں بند کی جانے والی نشستیں خاندانوں، طلبہ یا امتیاز مخالف تنظیموں جیسے مخصوص گروپس کے لیے مختص کی جاسکتی ہیں، بشرطیکہ واضح انسدادِ امتیاز اقدامات شامل ہوں۔ اس حوالے سے منصوبہ میچ سے کم از کم 15 دن پہلے فیفا کو دینا ہوگا۔ پابندی صرف اسپین کے اگلے ہوم دوستانہ میچ پر لاگو ہوگی، کسی مسابقتی میچ پر نہیں؛ عملی تاریخ ٹیم کے آئندہ شیڈول کے مطابق طے ہوگی۔
