اسلام آباد میں 7 ستمبر 2026 کو وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کی بندش کے عمل پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کی۔
وزارت خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ اجلاس میں یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش سے متعلق اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس میں منظور شدہ ملازمین کے علیحدگی پیکج پر عملدرآمد، تصدیق شدہ وینڈرز کے واجبات کی ادائیگی، اسٹاک کی تلفی یا واپسی، اور اثاثوں و جائیداد کے انتظام سے متعلق اقدامات شامل تھے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ملازمین کو ادائیگیوں اور تصدیق شدہ واجبات کے تصفیے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور آڈٹ و تصدیق کے ضروری انتظامات موجود ہیں۔ بریفنگ میں شناخت اور تصدیق کے لیے بائیومیٹرک تصدیق اور معاون دستاویزات جیسے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا۔
یہ اجلاس بندش کے عمل کا جائزہ لینے کے لیے تھا، اس لیے سرکاری بیان میں یہ نہیں کہا گیا کہ دونوں اداروں کی بندش کا پورا عمل اسی روز مکمل ہو گیا ہے۔ باقی اقدامات، اثاثوں کے انتظام اور دیگر قانونی و انتظامی امور کی تکمیل کے لیے مزید کارروائی درکار ہو سکتی ہے۔
پاسکو اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے مستقبل سے متعلق فیصلوں کے معاشی، انتظامی اور ملازمین سے متعلق پہلو موجود ہیں۔ اس لیے عمل کی شفافیت، واجبات کی درست تصدیق اور ملازمین کے حقوق سے متعلق انتظامات اہم رہیں گے۔ موجودہ سرکاری معلومات کی بنیاد پر تصدیق شدہ بات یہ ہے کہ وزیر خزانہ نے 7 ستمبر کو بندش کے عمل کی پیش رفت کا جائزہ لیا اور وزارت خزانہ نے بعض شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی اطلاع دی۔




