اسلام آباد: قومی اسمبلی کو فراہم کی گئی سرکاری معلومات کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع اور ڈیویڈنڈ کی بیرون ملک ترسیل کا حجم اسی مدت میں ملک میں آنے والی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے تقریباً 41 فیصد زیادہ رہا۔ یہ اعداد و شمار سرمایہ کاری کے مجموعی بہاؤ اور موجودہ غیر ملکی کاروباروں کی کمائی کے درمیان فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔
منافع کی بیرون ملک ترسیل بذات خود غیر معمولی یا غیر قانونی سرگرمی نہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں کاروبار سے حاصل ہونے والی جائز کمائی اور ڈیویڈنڈ اپنے حصص یافتگان یا بنیادی کمپنیوں کو منتقل کرتی ہیں۔ سرمایہ کاری کے ماحول میں قابل اعتماد منافع ترسیل کی سہولت اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ سرمایہ کار اس بات کو دیکھتے ہیں کہ انہیں اپنی کمائی مقررہ قواعد کے تحت واپس لے جانے کی اجازت ہے یا نہیں۔
تاہم جب نئی براہ راست سرمایہ کاری کے مقابلے میں منافع کی ترسیل زیادہ ہو تو پالیسی سازوں کے لیے سوال یہ بنتا ہے کہ ملک نئی سرمایہ کاری، توسیعی منصوبوں اور برآمدی صلاحیت کو کس رفتار سے راغب کر رہا ہے۔ ایف ڈی آئی عام طور پر نئی یا موجودہ کاروباری سرگرمی میں طویل مدتی سرمایہ لگانے کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ منافع کی ترسیل پہلے سے موجود سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی واپسی ہے۔ دونوں اعداد کو ایک دوسرے کا مکمل متبادل سمجھنا درست نہیں، مگر ان کا تقابل سرمایہ کاری کے رجحان کی ایک اہم تصویر فراہم کرتا ہے۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل سمیت مختلف ادارہ جاتی اقدامات کیے ہیں۔ توانائی، کان کنی، زراعت، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور صنعت ایسے شعبے ہیں جہاں حکومت بیرونی سرمایہ راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے پالیسی تسلسل، زرمبادلہ تک رسائی، ٹیکس قواعد، معاہدوں کا نفاذ اور توانائی کی لاگت اہم عوامل رہتے ہیں۔
مالی سال 2026 کا یہ تناسب اس بات کی خودکار علامت نہیں کہ غیر ملکی سرمایہ ملک سے نکل رہا ہے، کیونکہ منافع کی ادائیگی موجودہ کامیاب سرمایہ کاری کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔ اصل پالیسی چیلنج نئی ایف ڈی آئی کو اتنا بڑھانا ہے کہ ملک میں پیداواری اثاثوں، روزگار اور برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو۔ آئندہ مالی سالوں میں نئی سرمایہ کاری، دوبارہ لگائے گئے منافع اور بیرونی ادائیگیوں کے اعداد سے معلوم ہوگا کہ یہ فرق عارضی تھا یا وسیع تر رجحان کا حصہ ہے۔
