اسلام آباد: پاکستان اور چین نے چاول سمیت زرعی مصنوعات کی دوطرفہ تجارت کو سہولت دینے کے لیے معیار، پودوں کے قرنطینہ اور سرٹیفکیشن سے متعلق تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین پاکستان کی زرعی برآمدات کے لیے ایک بڑی ممکنہ منڈی ہے، لیکن خوراک اور زرعی مصنوعات کے لیے سخت معیار اور فائیٹو سینیٹری شرائط پوری کرنا مارکیٹ تک مستقل رسائی کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان دنیا کے نمایاں چاول برآمد کنندگان میں شامل ہے اور باسمتی کے ساتھ نان باسمتی اقسام بھی مختلف منڈیوں کو فروخت کرتا ہے۔ چین کی بڑی صارف منڈی پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے حجم بڑھانے کا موقع فراہم کرتی ہے، تاہم برآمدی کھیپ میں کیڑوں، بیماریوں، باقیات اور معیار سے متعلق ضوابط کی پابندی لازم ہوتی ہے۔ دونوں ملکوں کے تکنیکی اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کلیئرنس کے عمل کو زیادہ قابل پیش گوئی بنا سکتا ہے۔
زرعی تجارت میں پروٹوکول اور قرنطینہ انتظامات کا مقصد صرف تجارت بڑھانا نہیں بلکہ درآمد کرنے والے ملک کے زرعی نظام کو غیر ملکی کیڑوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھنا بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے کسی نئی سہولت کو معیار میں نرمی نہیں سمجھا جاسکتا۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو چین کی مقررہ شرائط، رجسٹریشن، پیکنگ، لیبارٹری جانچ اور سرٹیفکیشن کے تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
پاکستان کے لیے زرعی برآمدات میں اضافہ زرمبادلہ کی آمد اور دیہی معیشت دونوں کے لیے اہم ہے۔ چاول پہلے ہی ملک کی بڑی برآمدی اشیا میں شامل ہے، اس لیے بڑی منڈیوں تک مستحکم رسائی قیمتوں اور برآمدی حجم پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم عالمی قیمت، فصل کا حجم، مقامی لاگت، شپنگ اور دوسرے برآمد کنندہ ممالک سے مقابلہ بھی نتائج پر اثرانداز ہوگا۔
تازہ تعاون کا حقیقی اثر آنے والے تجارتی اعداد و شمار اور منظور شدہ برآمدی اداروں کی تعداد سے واضح ہوگا۔ اگر تکنیکی رکاوٹیں کم ہوتی ہیں اور پاکستانی سپلائر مستقل طور پر معیار پورا کرتے ہیں تو چین کو زرعی برآمدات بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے برعکس معیار کی خلاف ورزی یا قرنطینہ مسئلہ کھیپ روکنے یا پابندی کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے برآمدی نمو کے ساتھ نگرانی اور ٹریس ایبلٹی کا نظام مضبوط رکھنا ضروری ہوگا۔

