اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کمپنیز ایکٹ 2017 میں تقریباً 170 ترامیم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جن کا مقصد کمپنیوں کی رجسٹریشن، روزمرہ کاروباری کارروائیوں اور پاکستان کے کارپوریٹ ریگولیٹری فریم ورک کو آسان اور جدید بنانا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے پریس کانفرنس میں ان تبدیلیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پیچیدہ اور ایک دوسرے سے متصادم ضوابط سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمی کے لیے رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔
حکومت کے مطابق کئی دہائیوں میں مختلف ضروریات کے تحت قوانین اور قواعد شامل ہوتے رہے، جس سے بعض شعبوں میں غیر ضروری تقاضے، تکرار اور انتظامی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ مجوزہ اصلاحات کا مقصد ایسے مراحل کم کرنا ہے جن سے کمپنی قائم کرنے یا چلانے کے لیے وقت اور لاگت بڑھتی ہے۔ اس عمل کو حکومت کی وسیع تر ڈی ریگولیشن پالیسی کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔
کارپوریٹ قانون میں تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے لیے اس وقت اہم ہوتی ہیں جب وہ رجسٹریشن، رپورٹنگ، انتظامی ذمہ داریوں اور ریگولیٹر کے ساتھ تعامل کے طریقہ کار کو متاثر کریں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ آسان قواعد ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ماحول بہتر کرسکتے ہیں۔ تاہم اصلاحات کا حقیقی اثر صرف ترامیم کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کے متن، نفاذ اور متعلقہ سرکاری اداروں کی عملی کارکردگی سے طے ہوگا۔
کمپنیز ایکٹ پاکستان میں کمپنیوں کی تشکیل، انتظام، افشا، ڈائریکٹرز کی ذمہ داریوں اور دیگر متعدد کارپوریٹ امور کے لیے بنیادی قانونی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ اس لیے بڑے پیمانے کی ترامیم کاروباری برادری، قانونی ماہرین، اکاؤنٹنٹس اور سرمایہ کاروں کے لیے اہم ہیں۔ مختلف تبدیلیوں کے اطلاق کی تاریخ اور ان کے تحت بننے والے قواعد و ضوابط بھی عملی صورت حال واضح کریں گے۔
حکومت نے ان اصلاحات کو کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی سے جوڑا ہے، لیکن سرمایہ کاری کے فیصلوں پر توانائی کی لاگت، ٹیکس پالیسی، شرح سود، پالیسی تسلسل اور معاہدوں کے نفاذ جیسے دوسرے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ آنے والے مرحلے میں کمپنیوں کے لیے حقیقی تعمیل لاگت اور رجسٹریشن کے وقت میں کمی سے معلوم ہوگا کہ ترامیم مطلوبہ نتائج کس حد تک دیتی ہیں۔

