اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے تاوان کے لیے اغوا کیے گئے چار چینی شہریوں کو بنگیال کے علاقے میں ایک ڈیری فارم سے بازیاب کرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق کارروائی ایک زیرِ حراست ملزم سے تفتیش کے دوران ملنے والی معلومات پر کی گئی۔ چاروں شہریوں کو ایک کمرے سے نکال کر محفوظ تحویل میں لے لیا گیا، جبکہ موقع اور بعد کی کارروائی میں متعدد مبینہ اغوا کار گرفتار اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔

پولیس کی فراہم کردہ تفصیل کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو پہلے شالیمار پولیس اسٹیشن میں درج ایک مقدمے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا اور وفاقی پولیس کا ڈکیتی و رہزنی سے متعلق یونٹ اس سے تفتیش کر رہا تھا۔ تفتیش کے دوران اس نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر چار چینی شہریوں کو سیکٹر ایف-10/4 سے اغوا کیا، انہیں بنگیال کے ایک ڈیری فارم منتقل کیا اور رہائی کے لیے تاوان پر بات چیت جاری تھی۔ یہ بیان پولیس کا تفتیشی دعویٰ ہے اور عدالت میں شواہد کے ذریعے ثابت ہونا باقی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست شخص نے فارم تک پہنچنے میں مدد کی، جس پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے کر مقام کا محاصرہ کیا گیا۔ چھاپہ مار ٹیم کے پہنچنے پر فارم کے اندر موجود ایک مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر پولیس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی اور اس کے بعد دو افراد کو قابو کیا جو یرغمالیوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ چاروں چینی شہری فارم کے ایک ملحقہ کمرے میں ملے۔ دستیاب رپورٹ میں بازیاب افراد کے نام، طبی حالت یا اغوا کی درست مدت ظاہر نہیں کی گئی۔

پولیس کے مطابق بعد میں چار مزید مبینہ اغوا کار گرفتار کیے گئے اور ان کے قبضے سے ہتھیار بھی ملے، تاہم گروہ کا مبینہ سرغنہ موقع سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ ابتدائی گرفتار شخص، چھاپے کے دوران پکڑے گئے افراد اور بعد میں حراست میں لیے گئے ملزمان کے الگ قانونی کردار چالان اور عدالتی ریکارڈ سے واضح ہوں گے۔ صرف گرفتاری یا پولیس بیان کسی شخص کے اغوا، فائرنگ یا تاوان کے جرم میں مجرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔

تفتیش میں اب اغوا کے مقام اور فارم سے ممکنہ سی سی ٹی وی ریکارڈ، موبائل فون ڈیٹا، رابطوں، تاوان کی گفتگو، استعمال ہونے والی گاڑیوں اور برآمد شدہ اسلحے کی فرانزک جانچ اہم ہوگی۔ متاثرہ شہریوں کے بیانات بھی مقدمے کے مرکزی شواہد بن سکتے ہیں۔ پولیس کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ اغوا کی اطلاع کب ملی، مقدمہ کن دفعات کے تحت درج ہوا اور باقی مشتبہ افراد کی تلاش کس مرحلے میں ہے۔ دستیاب خبر میں ان تمام نکات کی مکمل سرکاری دستاویز شامل نہیں۔

چینی شہریوں کی پاکستان میں سلامتی دونوں ممالک کے سفارتی اور معاشی تعلقات کے باعث خصوصی توجہ کا موضوع رہتی ہے۔ تاہم اس واقعے کو پولیس نے تاوان کے لیے اغوا کرنے والے جرائم پیشہ گروہ کی کارروائی کے طور پر بیان کیا ہے؛ دستیاب معلومات میں دہشت گردی یا کسی سیاسی مقصد کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے واقعے کی نوعیت کے بارے میں پولیس تفتیش سے آگے قیاس آرائی مناسب نہیں ہوگی۔

تازہ کارروائی کا تصدیق شدہ عملی نتیجہ چار افراد کی زندہ بازیابی اور محفوظ تحویل ہے۔ گرفتاریوں، مبینہ فائرنگ، تاوان اور گروہ کی ساخت سے متعلق باقی دعووں کی حتمی قانونی حیثیت تفتیش، استغاثہ کے چالان اور عدالت کے فیصلے سے طے ہوگی۔ فرار مبینہ سرغنہ کی گرفتاری اور متاثرین کی مکمل شناخت و صحت سے متعلق مزید سرکاری معلومات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔