گلگت بلتستان کے ضلع سکردو میں جی بی اے 09، سکردو تھری کے ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ ہفتے کو سخت سکیورٹی میں مکمل ہو گئی۔ ڈان کے مطابق تمام 61 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی اور شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ انتخابی عمل مجموعی طور پر پرامن رہا اور کسی بڑے ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں دی گئی۔

حلقے میں مجموعی طور پر 33 ہزار 985 ووٹر رجسٹرڈ تھے، جن میں 17 ہزار 658 مرد اور 15 ہزار 868 خواتین شامل تھیں۔ پولنگ کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے اور 800 سے زیادہ پولیس اہلکاروں کے علاوہ گلگت بلتستان اسکاؤٹس کے اہلکار بھی تعینات رہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اہل ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے میں سہولت دینے اور انتخابی عمل کو پرامن رکھنے کے لیے حلقے میں مقامی تعطیل کا اعلان بھی کیا تھا۔

ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر حمزہ مراد کے مطابق 61 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 25 کو کیٹیگری اے کے تحت حساس، 11 کو کیٹیگری بی میں درمیانی حساس اور 25 کو معمول کے پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا تھا۔ ضمنی انتخاب کا انعقاد گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے اس وقت طے کیا جب گلگت بلتستان سپریم اپیلیٹ کورٹ نے پیپلز پارٹی کے امیدوار فدا محمد ناشاد کو نااہل قرار دیا۔ ناشاد جون کے عام انتخابات میں کامیاب امیدوار قرار پائے تھے۔

ضمنی انتخاب میں فدا محمد ناشاد کے صاحبزادے اختر عباس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر حصہ لیا، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے محمد اجمل امیدوار تھے۔ سابق وزیر محمد سلیم آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترے اور مجموعی طور پر دس امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔ مقامی مبصرین نے پیپلز پارٹی کے اختر عباس اور آزاد امیدوار محمد سلیم کے درمیان قریبی مقابلے کی توقع ظاہر کی تھی، تاہم یہ ایک تجزیاتی اندازہ تھا اور حتمی نتیجہ ووٹوں کی سرکاری گنتی اور انتخابی حکام کے اعلان سے ہی طے ہونا ہے۔

پولنگ مکمل ہونے کے بعد توجہ ووٹوں کی گنتی اور سرکاری نتائج کی جانب منتقل ہو گئی ہے۔ ضمنی انتخاب کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ نشست عدالتی نااہلی کے بعد خالی ہوئی اور اس کے نتیجے سے سکردو کی مقامی سیاسی صف بندی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ خبر کی اشاعت تک کسی امیدوار کی حتمی کامیابی کا سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔