قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے جینڈر مین اسٹریمنگ نے ملک میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے مقدمات کی پیش رفت کی نگرانی کے لیے کیس ٹریکنگ ڈیش بورڈ اور سنگین مقدمات کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کے سرکاری بیان کے مطابق کمیٹی کا 27 واں اجلاس ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

کمیٹی نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد کی مذمت کی اور متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ حالیہ واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکام سے کہا گیا کہ تحقیقات تیز، غیر جانبدار اور شفاف انداز میں مکمل کی جائیں اور مقدمات میں قانونی تقاضوں کے مطابق بروقت پراسیکیوشن یقینی بنائی جائے۔ کمیٹی نے واضح کیا کہ تفتیش، شواہد کے تحفظ یا متاثرین کے تحفظ میں غفلت اور غیر ضروری تاخیر پر بھی جواب دہی ہونی چاہیے۔

سرکاری بیان کے مطابق کمیٹی نے ایسے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جو غفلت، تاخیر، مداخلت، متاثرہ شخص کو تحفظ دینے میں ناکامی یا شواہد محفوظ نہ کرنے کے ذمہ دار پائے جائیں۔ یہ مطالبہ کسی مخصوص اہلکار کے خلاف جرم ثابت ہونے کا اعلان نہیں بلکہ ادارہ جاتی احتساب کے لیے پارلیمانی سفارش ہے۔ کسی بھی فرد کے خلاف کارروائی متعلقہ تحقیقات، قانونی طریقہ کار اور ثبوت کی بنیاد پر ہی ہونی چاہیے۔

کمیٹی نے خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات کو صرف فوجداری انصاف کے زاویے سے نہیں بلکہ سماجی اور نگہداشت کی پالیسی سے بھی جوڑا۔ اس نے وزارت خزانہ، پلاننگ کمیشن اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے ساتھ رابطے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نگہداشت کی خدمات کے لیے مخصوص وسائل مہیا کیے جا سکیں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق باقاعدہ ٹائم یوز سرویز کرائے جائیں۔ ایسے سرویز کے ذریعے گھریلو اور بلا معاوضہ نگہداشت کے کام کے معاشی و سماجی بوجھ کو بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

خصوصی کمیٹی نے کہا کہ صنفی تشدد کے مقدمات میں بے سزا رہ جانے کے رجحان کو ختم کرنے، قانونی عمل کے تمام مراحل میں جواب دہی مضبوط بنانے اور پاکستان کی کیئر اکانومی کو تسلیم کرنے والی جامع قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔ کمیٹی کی سفارشات خود قانون یا عدالتی حکم نہیں ہیں؛ ان پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو انتظامی، بجٹی اور ممکنہ طور پر قانونی اقدامات کرنا ہوں گے۔ آئندہ پیش رفت سے معلوم ہوگا کہ کیس ٹریکنگ ڈیش بورڈ اور خصوصی سیل کی تجاویز کو عملی شکل دینے کے لیے کون سا ادارہ ذمہ داری سنبھالتا ہے۔