قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے کراچی کو اضافی پانی فراہم کرنے کے گریٹر کراچی واٹر سپلائی منصوبے، کے فور، میں طویل تاخیر اور بھاری اخراجات کی تحقیقات کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ڈان اور قومی اسمبلی کے سرکاری بیان کے مطابق قائمہ کمیٹی کا اجلاس احمد عتیق انور کی صدارت میں ہوا، جہاں ارکان نے تقریباً 242 ارب روپے کے مجموعی منصوبے کی عدم تکمیل پر تشویش ظاہر کی۔
کمیٹی نے رکن قومی اسمبلی محمد ادریس کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی قائم کی، جسے اس سوال کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی کہ بڑے پیمانے پر اخراجات کے باوجود منصوبہ مکمل کیوں نہیں ہو سکا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ارکان جاوید حنیف خان، سید امین الحق، سید وسیم حسین اور شازیہ مری نے بھی منصوبے کی رفتار پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ارکان نے نشاندہی کی کہ تقریباً پندرہ سال سے سرمایہ کاری جاری رہنے کے باوجود کراچی کے شہریوں کو فوری طور پر منصوبے سے پانی ملنے کی واضح صورت نظر نہیں آ رہی۔
واپڈا کے چیئرمین ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید نے کمیٹی کو بتایا کہ واپڈا اپنے دائرہ کار میں آنے والے تقریباً 171 ارب روپے کے پہلے مرحلے کو دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ضروری شرائط پوری ہوں۔ ان میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی جانب سے اپنے آگمینٹیشن منصوبے کے تحت 50 میگاواٹ بجلی کی فراہمی اور وفاقی حکومت کی طرف سے مطلوبہ فنڈز کی دستیابی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں مختص 10 ارب روپے ناکافی ہیں اور اضافی فنڈنگ کے لیے وزیراعظم آفس اور وزارت خزانہ سے رابطہ جاری ہے۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے سربراہ نے کمیٹی کو بتایا کہ شہر کے اندر آگمینٹیشن کاموں کے لیے عالمی بینک کی فنانسنگ منظور ہو چکی ہے اور ٹینڈرز جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق گیس، بجلی، سڑکوں اور دیگر خدمات سے متعلق اداروں کو بھی کام میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ادارے کے حصے میں مقررہ مدت سے زیادہ تاخیر کی صورت میں ذمہ داری قبول کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
کے فور منصوبہ کراچی میں پانی کی دیرینہ قلت کم کرنے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی تکمیل مختلف مالی، تکنیکی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں سے متاثر رہی ہے۔ نئی ذیلی کمیٹی کا قیام خود منصوبے کی تکمیل نہیں بلکہ پارلیمانی نگرانی اور وجوہات کی تحقیقات کا قدم ہے۔ واپڈا کا دسمبر کا ہدف بھی مطلوبہ بجلی اور فنڈنگ کی بروقت فراہمی سے مشروط ہے، اس لیے حتمی پیش رفت کا انحصار متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے باہمی رابطے اور عملی کام پر ہوگا۔




