اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسلام آباد کے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے قومی پروگرام برائے خاتمہ ہیپاٹائٹس سی کے تحت مفت اسکریننگ اور علاج کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔ پروگرام کے ایک عہدیدار کے مطابق مہم کا مقصد بیماری کی جلد تشخیص، مریضوں کو بروقت علاج کی فراہمی اور ایسے افراد تک صحت کی سہولت پہنچانا ہے جو نجی طور پر تشخیص اور ادویات کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

سرکاری معلومات کے مطابق تقریباً آٹھ ہزار روپے مالیت کے تشخیصی ٹیسٹ شہریوں کو بلا معاوضہ فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہونے کی صورت میں علاج کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی، جن کی مالیت مریض کی ضرورت کے مطابق تقریباً 34 ہزار سے 68 ہزار روپے تک بتائی گئی ہے۔ یہ اعداد پروگرام کے تحت متوقع اخراجات کی وضاحت کرتے ہیں اور ہر مریض کے طبی کورس کا حتمی فیصلہ متعلقہ معالج کرے گا۔

حکام نے ایسے شہریوں کو اسکریننگ کرانے کی ترغیب دی ہے جنہوں نے پہلے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ نہیں کرایا۔ طبی طور پر بیماری کی بروقت شناخت اس لیے اہم ہے کہ کئی مریض طویل عرصے تک واضح علامات کے بغیر رہ سکتے ہیں، جبکہ علاج میں تاخیر جگر کو نقصان پہنچانے سمیت پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ پروگرام کا زور تشخیص کے ساتھ علاج تک رسائی یقینی بنانے پر ہے۔

حکومت کے مطابق مہم کو مرحلہ وار آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیلانے کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں بھی وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔ اس توسیع کی رفتار دستیاب طبی سہولتوں، اسکریننگ انتظامات اور پروگرام کے عملی نفاذ پر منحصر ہوگی۔ حکام نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ اور کمیونٹی کے دوسرے افراد کو بھی اسکریننگ کے بارے میں آگاہ کریں۔

ہیپاٹائٹس سی پاکستان کے لیے صحت عامہ کا اہم مسئلہ ہے، اور قومی سطح پر خاتمے کی حکمت عملی میں بڑے پیمانے پر اسکریننگ، متاثرہ افراد کی شناخت اور قابل رسائی علاج بنیادی ستون ہیں۔ اسلام آباد میں جاری مہم اسی حکمت عملی کا عملی مرحلہ ہے۔ پروگرام کی کامیابی کا انحصار شہری شرکت، مسلسل ادویات کی دستیابی، درست تشخیص اور مریضوں کے علاج مکمل کرنے پر ہوگا۔